حدیث نمبر: 5072
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي عَقِيلٍ ، عَنْ سَابِقِ بْنِ نَاجِيَةَ ، عَنْ أَبِي سَلَّامٍ ، أَنَّهُ كَانَ فِي مَسْجِدِ حِمْصَ فَمَرَّ بِهِ رَجُلٌ ، فَقَالُوا : هَذَا خَدَمَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَامَ إِلَيْهِ ، فَقَالَ : حَدِّثْنِي بِحَدِيثٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَتَدَاوَلْهُ بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ الرِّجَالُ , قال : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ قَالَ إِذَا أَصْبَحَ وَإِذَا أَمْسَى : رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا ، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا ، وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا ، إِلَّا كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يُرْضِيَهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابو سلام کہتے ہیں کہ` وہ حمص کی مسجد میں تھے کہ ایک شخص کا وہاں سے گزر ہوا ، لوگوں نے کہا ، یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خادم رہے ہیں ، راوی کہتے ہیں : تو ابو سلام اٹھ کر ان کے پاس گئے ، اور ان سے عرض کیا کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی کوئی ایسی حدیث ہم سے بیان فرمائیے ، جس میں آپ کے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان کسی اور شخص کا واسطہ نہ ہو ، تو انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے : جس نے جب صبح کے وقت اور شام کے وقت یہ دعا پڑھی «رضينا بالله ربا وبالإسلام دينا وبمحمد رسولا» ” ہم اللہ کے رب ہونے ، اسلام کے دین ہونے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول ہونے سے راضی و خوش ہیں “ تو اللہ پر اس کا یہ حق بن گیا کہ وہ بھی اس سے راضی و خوش ہو جائے ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب النوم / حدیث: 5072
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, مشكوة المصابيح (2399), سابق بن ناجية حسن الحديث,
تخریج حدیث « سنن ابن ماجہ/الدعاء 17 (3870)، (تحفة الأشراف: 12050، 15675)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/337، 5/367) (ضعیف) (اس کے راوی ''سابق بن ناجیہ'' لین الحدیث ہیں) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابن ماجه: 3870

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´صبح کے وقت کیا پڑھے؟`
ابو سلام کہتے ہیں کہ وہ حمص کی مسجد میں تھے کہ ایک شخص کا وہاں سے گزر ہوا، لوگوں نے کہا، یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خادم رہے ہیں، راوی کہتے ہیں: تو ابو سلام اٹھ کر ان کے پاس گئے، اور ان سے عرض کیا کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی کوئی ایسی حدیث ہم سے بیان فرمائیے، جس میں آپ کے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان کسی اور شخص کا واسطہ نہ ہو، تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: جس نے جب صبح کے وقت اور شام کے وقت یہ دعا پڑھی «رضينا بالله ربا وبالإسلام دينا وبمحمد رسولا» ہم اللہ کے رب ہونے، اسل۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5072]
فوائد ومسائل:
اس حدیث میں مذکوردعا سنن ابودائود۔
کتاب الوتر حدیث 1529 میں بھی گزر چکی ہے، تفصیل کےلئے ملاحظہ ہو۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 5072 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 3870 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´صبح شام کیا دعا پڑھے؟`
خادم رسول ابوسلام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی مسلمان یا کوئی آدمی یا کوئی بندہ (یہ راوی کا شک ہے کہ کون سا کلمہ ارشاد فرمایا) صبح و شام یہ کہتا ہے: «رضيت بالله ربا وبالإسلام دينا وبمحمد نبيا» ہم اللہ کے رب ہونے، اسلام کے دین ہونے، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی ہونے سے راضی و خوش ہیں) تو اللہ تعالیٰ پر اس کا یہ حق بن گیا کہ وہ قیامت کے دن اسے خوش کرے۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3870]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
حضرت ابو سلام کے بارے میں حافظ ابن حجر کے کلام کا خلاصہ یہ ہے کہ راوی سےغلطی ہوئی ہے اصل میں ابو سلام خود نبی کریمﷺ کے خادم نہیں تھے۔
اور نہ ان کا تذکرہ خدام نبی ﷺ میں ملتا ہے۔
بلکہ انھوں نے نبی کریمﷺ کی خدمت کرنے والے کسی صحابی  سے ر وایت کی ہے۔
اور ان کا نام ''ممطور الاسود الحیثی'' ہے۔
اور یہ صحابی نہیں ہیں۔
ان کی روایات مرسل ہوتی ہیں۔
دیکھئے۔ (تقریب التہذیب)
نیز ہمارے فاضل محقق اور دیگر محققین نے بھی اسی طرف اشارہ کیا ہے۔
اور حافظ ابن حجر کے موقف کی تایئد کی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3870 سے ماخوذ ہے۔