حدیث نمبر: 5071
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، عَنْ خَالِدٍ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ بْنِ أَعْيَنَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سُوَيْدٍ ،عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ : " إِذَا أَمْسَى أَمْسَيْنَا ، وَأَمْسَى الْمُلْكُ لِلَّهِ ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ " , زَادَ فِي حَدِيثِ جَرِيرٍ ، وَأَمَّا زُبَيْدٌ كَانَ يَقُولُ : كَانَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ سُوَيْدٍ ، يَقُولُ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، رَبِّ أَسْأَلُكَ خَيْرَ مَا فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ وَخَيْرَ مَا بَعْدَهَا ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ وَشَرِّ مَا بَعْدَهَا ، رَبِّ أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكَسَلِ وَمِنْ سُوءِ الْكِبَرِ أَوِ الْكُفْرِ ، رَبِّ أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابٍ فِي النَّارِ وَعَذَابٍ فِي الْقَبْرِ ، وَإِذَا أَصْبَحَ قَالَ ذَلِكَ أَيْضًا : أَصْبَحْنَا وَأَصْبَحَ الْمُلْكُ لِلَّهِ , قال أبو داود : رَوَاهُ شُعْبَةُ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سُوَيْدٍ ، قَالَ : مِنْ سُوءِ الْكِبَرِ ، وَلَمْ يَذْكُرْ : سُوءَ الْكُفْرِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب شام کرتے تو یہ دعا پڑھتے تھے : «أمسينا وأمسى الملك لله والحمد لله لا إله إلا الله وحده لا شريك له» ” ہم نے شام کی ، اور ملک نے شام کی جو اللہ تعالیٰ کا ہے ، تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں ، اللہ واحد کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے ، اور نہ ہی کوئی اس کا شریک ہے ۔ “ جریر کی روایت میں اتنا اضافہ ہے : زبید کہتے تھے کہ ابراہیم بن سوید کی روایت میں ہے «لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شىء قدير رب أسألك خير ما في هذه الليلة وخير ما بعدها وأعوذ بك من شر ما في هذه الليلة وشر ما بعدها رب أعوذ بك من الكسل ومن سوء الكبر أو الكفر رب أعوذ بك من عذاب في النار وعذاب في القبر» ” اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے ، وہ اکیلا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ، اسی کے لیے ملک ہے ، اسی کے لیے تمام تعریفیں ہیں ، وہ ہر چیز پر قادر ہے ، اے رب ! اس رات اور اس کے بعد کی رات کی بھلائی کا طلب گار ہوں ، اور اس رات اور اس کے بعد کی رات کی برائی سے پناہ مانگتا ہوں ، اے اللہ میں پناہ مانگتا ہوں سستی اور کاہلی سے ، اور بڑھاپے ، یا کفر سے یا غرور کی برائی سے ، اے رب میں پناہ مانگتا ہوں آگ کے عذاب سے ، قبر کے عذاب سے “ اور جب صبح ہوتی تو بھی یہی کہتے فرق صرف یہ ہوتا کہ «أمسينا وأمسى الملك لله» کے بجائے «أصبحنا وأصبح الملك لله» ” ہم نے صبح کی اور ملک نے صبح کی جو اللہ تعالیٰ کا ہے “ کہتے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے شعبہ نے سلمہ بن کہل سے ، سلمہ نے ابراہیم بن سوید سے روایت کیا ہے اس میں «من سوء الكبر» ہے انہوں نے «من سوء الكفر» کا ذکر نہیں کیا ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب النوم / حدیث: 5071
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (2732), مشكوة المصابيح (2392)
تخریج حدیث « صحیح مسلم/الذکر والدعاء 18 (2723)، سنن الترمذی/الدعوات 13 (3390)، (تحفة الأشراف: 9386)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/440 مرفوعًا) (صحیح) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 2723 | سنن ترمذي: 3390

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´صبح کے وقت کیا پڑھے؟`
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب شام کرتے تو یہ دعا پڑھتے تھے: «أمسينا وأمسى الملك لله والحمد لله لا إله إلا الله وحده لا شريك له» ہم نے شام کی، اور ملک نے شام کی جو اللہ تعالیٰ کا ہے، تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، اللہ واحد کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے، اور نہ ہی کوئی اس کا شریک ہے۔ جریر کی روایت میں اتنا اضافہ ہے: زبید کہتے تھے کہ ابراہیم بن سوید کی روایت میں ہے «لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شىء قدير رب أسألك خير ما في هذه الليلة وخير ما بعدها وأعوذ بك من شر ما في هذه الليلة وشر۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5071]
فوائد ومسائل:

دعا کے الفاظ مرتب طور پر درج زیل ہیں: «لا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ، وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، رَبِّ أَسْأَلُكَ خَيْرَ مَا فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ، وَخَيْرَ مَا بَعْدَهَا، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ، وَشَرِّ مَا بَعْدَهَا، رَبِّ أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكَسَلِ، وَمِنْ سُوءِ الْكِبَرِ، أَوِ الْكُفْرِ، رَبِّ أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابٍ فِي النَّارِ، وَعَذَابٍ فِي الْقَبْرِ» اور صبح کے وقت دو جملے یوں بدلنے ہوں گے۔
(أصبحنا و أصبح الملك لله) اور آگے (رب أسالك خير ما في هذ اليوم وخير ما بعده واعوذبك من شر ما في هذا اليوم وشر ما بعده)

الكبر با جزم کے ساتھ ہو تو بمعنی غرور ہے۔
اور اگر با پرزبر پڑھی جائے۔
تو معنی ہیں بڑھاپا

ترجمہ۔
ہم نے شام کی اور اللہ کے ملک نے شام کی۔
اللہ کے سوا اور کوئی معبود نہیں۔
وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، ملک اسی کا ہے تعریف اسی کی ہے اور وہ ہرچیز کا مل قدرت رکھتا ہے۔
اے میرے رب میں تجھ سے اس خیر کا سوال کرتا ہوں۔
جو اس رات میں ہے۔
اور اس خیر کا بھی جو اس کے بعد ہے۔
اور اس شر سے پناہ چاہتا ہوں۔
جو اس رات میں ہے اور اس شر سے بھی جو اس کے بعد ہے۔
اے میرے رب! میں سستی غرور(یا بڑھاپے) یا کفر کی بُرائی سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔
اے میرے رب! میں دوزخ اور قبر کے عذاب سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 5071 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2723 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب شام ہوتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے حضور میں عرض کرتے۔" یہ شام اس حال میں ہو رہی ہے کہ ہم اور ساری کائنات اللہ ہی کے ہیں اور حمدو شکر اللہ ہی کے لیے ہے۔ اس ایک کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اس کا کوئی شریک ساجھی نہیں ہے۔ اے اللہ!میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اس رات میں جو کچھ ہونے والا اس کی خیر کا اور اس رات کی خیر کا اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں، اس رات... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:6909]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: اس دعا میں اپنی ذات اور ساری کائنات کے اوپر اللہ کی حاکمیت و مالکیت کا اقرار اور اعتراف ہے اور اس کی حمدو شکر کے ساتھ، اس کی وحدانیت و یکتائی کا اعلان ہے، پھر رات یا دن میں جو خیر اور برکتیں ہیں، ان کی درخواست ہے اور رات یا دن میں جو شروروفساد ہیں، ان سے پناہ طلب کی گئی ہے اور جو کمزوریاں خیروسعادت سے محرومی کا باعث بنتی ہیں، ان سے پناہ طلب کی گئی ہے اور آخر میں دنیا کے ہر فتنہ اور قبر کے عذاب سے پناہ مانگی گئی ہے، اس طرح اس میں اپنی بندگی اور نیاز مندی کا بھر پور اظہار کیا گیا ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2723 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 3390 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´صبح و شام پڑھی جانے والی دعاؤں کا بیان۔`
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب شام ہوتی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کہتے «أمسينا وأمسى الملك لله والحمد لله ولا إله إلا الله وحده لا شريك له أراه قال فيها له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير أسألك خير ما في هذه الليلة وخير ما بعدها وأعوذ بك من شر هذه الليلة وشر ما بعدها وأعوذ بك من الكسل وسوء الكبر وأعوذ بك من عذاب النار وعذاب القبر» ہم نے شام کی اور ساری بادشاہی نے شام کی اللہ کے حکم سے، تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، اللہ وحدہ لاشریک لہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اسی کے لیے بادشاہت ہے اسی کے لیے حمد ہے اور وہ ہر چیز پر ق۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3390]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
ہم نے شام کی اور ساری بادشاہی نے شام کی اللہ کے حکم سے، تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، اللہ وحدہ لاشریک له کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اسی کے لیے بادشاہت ہے اسی کے لیے حمد ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے، اس رات میں جو خیر ہے، اس کا میں طالب ہوں، اور رات کے بعد کی بھی جو بھلائی ہے اس کا بھی میں خواہاں ہوں، اور اس رات کی برائی اور رات کے بعد کی بھی برائی سے میں پناہ مانگتاہوں، اور پناہ مانگتا ہوں میں سستی اور کاہلی سے، اور پناہ مانگتا ہوں بوڑھاپے کی تکلیف سے، اور پناہ مانگتاہوں آگ کے عذاب سے اور پناہ مانگتا ہوں قبر کے عذاب سے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3390 سے ماخوذ ہے۔