سنن ابي داود
أبواب النوم— ابواب: سونے سے متعلق احکام و مسائل
باب مَا يُقَالُ عِنْدَ النَّوْمِ باب: سوتے وقت کیا دعا پڑھے؟
حدیث نمبر: 5057
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ الْحَرَّانِيُّ ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ ، عَنْ بَحِيرٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، عَنْ ابْنِ أَبِي بِلَالٍ ، عَنْ عِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْرَأُ : الْمُسَبِّحَاتِ قَبْلَ أَنْ يَرْقُدَ ، وَقَالَ : إِنَّ فِيهِنَّ آيَةً أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ آيَةٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سونے سے پہلے «المسبحات» ۱؎ پڑھتے تھے ، اور فرماتے تھے : ” ان میں ایک آیت ایسی ہے جو ہزار آیتوں سے افضل ہے “ ۔
وضاحت:
۱؎: مسبحات وہ سورتیں ہیں جو لفظ «یُسَبِّحُ» یا «سَبَّحَ» سے شروع ہوتی ہیں۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´سوتے وقت کیا دعا پڑھے؟`
عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سونے سے پہلے «المسبحات» ۱؎ پڑھتے تھے، اور فرماتے تھے: ” ان میں ایک آیت ایسی ہے جو ہزار آیتوں سے افضل ہے۔“ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5057]
عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سونے سے پہلے «المسبحات» ۱؎ پڑھتے تھے، اور فرماتے تھے: ” ان میں ایک آیت ایسی ہے جو ہزار آیتوں سے افضل ہے۔“ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5057]
فوائد ومسائل:
فائدہ۔
(المسبحات) سے مراد قرآن کریم کی وہ سورتیں ہیں۔
جن کی ابتداء میں لفظ (سبحان سبَّحَ) یا «یُسَبِّحُ» آیا ہے۔
اور یہ سات سورتیں ہیں۔
بني اسرائيل ...الحديد...الحشر...الصف...الجمعة...التغابن...الاعلی
فائدہ۔
(المسبحات) سے مراد قرآن کریم کی وہ سورتیں ہیں۔
جن کی ابتداء میں لفظ (سبحان سبَّحَ) یا «یُسَبِّحُ» آیا ہے۔
اور یہ سات سورتیں ہیں۔
بني اسرائيل ...الحديد...الحشر...الصف...الجمعة...التغابن...الاعلی
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 5057 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 2921 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´باب:۔۔۔`
عرباض بن ساریہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سونے سے پہلے مسبحات پڑھتے تھے ۱؎ آپ فرماتے تھے: ” ان میں ایک آیت ایسی ہے جو ہزار آیتوں سے بہتر ہے۔“ [سنن ترمذي/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 2921]
عرباض بن ساریہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سونے سے پہلے مسبحات پڑھتے تھے ۱؎ آپ فرماتے تھے: ” ان میں ایک آیت ایسی ہے جو ہزار آیتوں سے بہتر ہے۔“ [سنن ترمذي/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 2921]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
مسبحات وہ سورتیں ہیں جو سبحان اللہ، سبح اور یسبح سے شروع ہوتی ہیں، وہ یہ ہیں: بنی اسرائیل، الحدید، الحشر، الجمعہ، الصف، التغابن، اورالاعلیٰ۔
نوٹ:
(سند میں بقیۃ بن الولید مدلس راوی ہیں، اورروایت عنعنہ سے ہے، نیز (عبد اللہ بن أبی بلال الخزاعي الشامي مقبول عندالمتابعة) ہیں، اور ان کا کوئی متابع نہیں اس لیے ضعیف ہیں)
وضاحت:
1؎:
مسبحات وہ سورتیں ہیں جو سبحان اللہ، سبح اور یسبح سے شروع ہوتی ہیں، وہ یہ ہیں: بنی اسرائیل، الحدید، الحشر، الجمعہ، الصف، التغابن، اورالاعلیٰ۔
نوٹ:
(سند میں بقیۃ بن الولید مدلس راوی ہیں، اورروایت عنعنہ سے ہے، نیز (عبد اللہ بن أبی بلال الخزاعي الشامي مقبول عندالمتابعة) ہیں، اور ان کا کوئی متابع نہیں اس لیے ضعیف ہیں)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2921 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 3406 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´سوتے وقت قرآن پڑھنے سے متعلق ایک اور باب۔`
عرباض بن ساریہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب تک «مسبحات» ۱؎ پڑھ نہ لیتے سوتے نہ تھے ۲؎، آپ فرماتے تھے: ” ان میں ایک ایسی آیت ہے جو ہزار آیتوں سے بہتر ہے۔“ [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3406]
عرباض بن ساریہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب تک «مسبحات» ۱؎ پڑھ نہ لیتے سوتے نہ تھے ۲؎، آپ فرماتے تھے: ” ان میں ایک ایسی آیت ہے جو ہزار آیتوں سے بہتر ہے۔“ [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3406]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
وہ سورتیں جن کے شروع میں (سَبَّحَ یُسَبِّحُ) یا (سُبحَانَ اللہ) ہے۔
2؎:
سونے کے وقت پڑھی جانے والی سورتوں اور دعاؤں کے بارے میں آپﷺسے متعدد روایات واردہ یں جن میں بعض کا مؤلف نے بھی ذکرکیا ہے، نبی اکرمﷺ سے بالکل ممکن ہے کہ وہ ساری دعائیں اورسورتیں پڑھ لیتے ہوں، یا نشاط اور چستی کے مطابق کبھی کوئی پڑھ لیتے ہوں اور کبھی کوئی۔
نوٹ:
(سند میں بقیۃ بن الولید مدلس راوی ہیں، اور روایت عنعنہ سے ہے، نیز عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بِلَالٍ الخزاعي الشِّاميِ مَقْبول عِنْدَالمتابعة) ہیں، اور ان کا کوئی متابع نہیں اس لیے ضعیف ہیں، البانی صاحب نے صحیح الترمذی میں پہلی جگہ ضعیف الإسناد لکھا ہے، اور دوسری جگہ حسن جب کہ ضعیف الترغیب (344) میں اسے ضعیف کہا ہے)-
وضاحت:
1؎:
وہ سورتیں جن کے شروع میں (سَبَّحَ یُسَبِّحُ) یا (سُبحَانَ اللہ) ہے۔
2؎:
سونے کے وقت پڑھی جانے والی سورتوں اور دعاؤں کے بارے میں آپﷺسے متعدد روایات واردہ یں جن میں بعض کا مؤلف نے بھی ذکرکیا ہے، نبی اکرمﷺ سے بالکل ممکن ہے کہ وہ ساری دعائیں اورسورتیں پڑھ لیتے ہوں، یا نشاط اور چستی کے مطابق کبھی کوئی پڑھ لیتے ہوں اور کبھی کوئی۔
نوٹ:
(سند میں بقیۃ بن الولید مدلس راوی ہیں، اور روایت عنعنہ سے ہے، نیز عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بِلَالٍ الخزاعي الشِّاميِ مَقْبول عِنْدَالمتابعة) ہیں، اور ان کا کوئی متابع نہیں اس لیے ضعیف ہیں، البانی صاحب نے صحیح الترمذی میں پہلی جگہ ضعیف الإسناد لکھا ہے، اور دوسری جگہ حسن جب کہ ضعیف الترغیب (344) میں اسے ضعیف کہا ہے)-
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3406 سے ماخوذ ہے۔