حدیث نمبر: 5055
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاق ، عَنْ فَرْوَةَ بْنِ نَوْفَلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ ّالنَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لِنَوْفَلٍ : " اقْرَأْ : قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ ، ثُمَّ نَمْ عَلَى خَاتِمَتِهَا ، فَإِنَّهَا بَرَاءَةٌ مِنَ الشِّرْكِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´نوفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا : ” «قل يا أيها الكافرون» پڑھو ( یعنی پوری سورۃ ) اور پھر اسے ختم کر کے سو جاؤ ، کیونکہ یہ سورۃ شرک سے براءت ہے “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب النوم / حدیث: 5055
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن, مشكوة المصابيح (2161), وله شاھد عند ابن أبي شيبة (10/250 ح29297 وسنده حسن) والتاريخ الكبير للبخاري (5/357) عبد الرحمن بن نوفل وثقه العجلي وابن حبان ومروان بن معاوية الفزاري صرح بالسماع
تخریج حدیث « سنن الترمذی/الدعوات 22 (3403)، (تحفة الأشراف: 11718)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/456)، سنن الدارمی/فضائل القرآن 22 (3470) (صحیح) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 3403

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´سوتے وقت کیا دعا پڑھے؟`
نوفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا: «قل يا أيها الكافرون» پڑھو (یعنی پوری سورۃ) اور پھر اسے ختم کر کے سو جاؤ، کیونکہ یہ سورۃ شرک سے براءت ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5055]
فوائد ومسائل:
اور جو شخص اس کیفیت میں مرا کہ وہ شرک سے بری تھا تو اس کےلئے جنت کا وعدہ ہے۔
رسول اللہ ﷺ کافرمان گرامی ہے۔
من مَاتَ وهو يَعلمُ أَنه لا إِله إِلا الله دخل الجنةَ (صحیح مسلم، الإیمان، حدیث: 26) جو شخص اس حال میں مرا کہ اسے لاإله إلا اللہ کا یقین تھا تو وہ جنت میں داخل ہوگا۔
صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے۔
من مَاتَ يُشركُ باللهِ شيئًا دَخلَ النَّارَ جو شخص اس حال میں مرا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی چیز کو شریک ٹھراتا تھا تو وہ آگ (جہنم) میں داخل ہوگا۔
حضرت عبدا للہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں اور میں کہتا ہوں۔
ومن مَاتَ لا يُشركُ باللهِ شيئًا دَخَلَ الجنَّةَ جو شخص اس حال میں مرا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں ٹھراتا تھا تو وہ جنت میں داخل ہوگا۔
(صحیح البخاري، الجنائز، حدیث 1238 و صحیح مسلم، الإیمان، حدیث:920)
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 5055 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 3403 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´سوتے وقت قرآن پڑھنے سے متعلق ایک اور باب۔`
فروہ بن نوفل رضی الله عنہ ۱؎ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر انہوں نے کہا: اور کہا: اللہ کے رسول! مجھے کوئی ایسی چیز بتائیے جسے میں جب اپنے بستر پر جانے لگوں تو پڑھ لیا کروں، آپ نے فرمایا: «قل يا أيها الكافرون» پڑھ لیا کرو، کیونکہ اس سورۃ میں شرک سے برأۃ (نجات) ہے۔ شعبہ کہتے ہیں: (ہمارے استاذ) ابواسحاق کبھی کہتے ہیں کہ سورۃ «قل يا أيها الكافرون» ایک بار پڑھ لیا کرو، اور کبھی ایک بار کا ذکر نہیں کرتے۔ [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3403]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
تحقیقی بات ہے کہ فروہ کے باپ ’’نوفل الاشجعی‘‘ صحابی ہیں آگے سندوں سے مؤلف یہ حدیث نوفل کی مسند سے ذکرکر رہے ہیں، وہی صحیح ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3403 سے ماخوذ ہے۔