حدیث نمبر: 5051
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ . ح وحَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، عَنْ خَالِدٍ نَحْوَهُ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ " إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ : اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَوَاتِ وَرَبَّ الْأَرْضِ وَرَبَّ كُلِّ شَيْءٍ ، فَالِقَ الْحَبِّ وَالنَّوَى ، مُنَزِّلَ التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ وَالْقُرْآنِ ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ كُلِّ ذِي شَرٍّ أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهِ ، أَنْتَ الْأَوَّلُ فَلَيْسَ قَبْلَكَ شَيْءٌ ، وَأَنْتَ الْآخِرُ فَلَيْسَ بَعْدَكَ شَيْءٌ ، وَأَنْتَ الظَّاهِرُ فَلَيْسَ فَوْقَكَ شَيْءٌ ، وَأَنْتَ الْبَاطِنُ فَلَيْسَ دُونَكَ شَيْءٌ " , زَادَ وَهْبٌ فِي حَدِيثِهِ : اقْضِ عَنِّي الدَّيْنَ ، وَأَغْنِنِي مِنَ الْفَقْرِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے بستر پر سونے کے لیے جاتے تو فرماتے : «اللهم رب السموات ورب الأرض ورب كل شىء فالق الحب والنوى منزل التوراة والإنجيل والقرآن أعوذ بك من شر كل ذي شر أنت آخذ بناصيته أنت الأول فليس قبلك شىء وأنت الآخر فليس بعدك شىء وأنت الظاهر فليس فوقك شىء وأنت الباطن فليس دونك شىء اقض عني الدين وأغنني من الفقر» ” اے اللہ ! آسمانوں و زمین کے مالک ! اے ہر چیز کے پالنہار ! اے دانے اگانے والے ! اے بیج سے درخت پیدا کرنے والے ! اے توراۃ ، انجیل اور قرآن اتارنے والے ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں ، ہر شر والے کے شر سے جس کی پیشانی تیرے قبضے میں ہے ، تو سب سے پہلے ہے ، تجھ سے پہلے کوئی چیز نہیں ، تو سب سے آخر ہے ، تیرے بعد کوئی چیز نہیں ، تو سب سے ظاہر ( اوپر ) ہے ، تجھ سے اوپر کوئی نہیں ، تو چھپا ہوا ہے ، تجھ سے زیادہ چھپا ہوا کوئی نہیں “ وہب نے اپنی حدیث میں اتنا اضافہ کیا ہے کہ : تو میرا قرض اتار دے اور تنگ دستی سے نکال کر مجھے مالدار بنا دے ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب النوم / حدیث: 5051
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (2713), مشكوة المصابيح (2408),
تخریج حدیث « صحیح مسلم/الذکر والدعاء 17 (2713)، سنن الترمذی/الدعوات 19 (3400)، سنن ابن ماجہ/الدعاء 15 (3873)، مسند احمد (2/404)، (تحفة الأشراف: 12631) (صحیح) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 2713 | سنن ترمذي: 3400 | سنن ترمذي: 3481 | سنن ابن ماجه: 3831 | سنن ابن ماجه: 3873

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´سوتے وقت کیا دعا پڑھے؟`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے بستر پر سونے کے لیے جاتے تو فرماتے: «اللهم رب السموات ورب الأرض ورب كل شىء فالق الحب والنوى منزل التوراة والإنجيل والقرآن أعوذ بك من شر كل ذي شر أنت آخذ بناصيته أنت الأول فليس قبلك شىء وأنت الآخر فليس بعدك شىء وأنت الظاهر فليس فوقك شىء وأنت الباطن فليس دونك شىء اقض عني الدين وأغنني من الفقر» اے اللہ! آسمانوں و زمین کے مالک! اے ہر چیز کے پالنہار! اے دانے اگانے والے! اے بیج سے درخت پیدا کرنے والے! اے توراۃ، انجیل اور قرآن اتارنے والے! میں تیری پناہ چاہتا ہوں، ہر شر والے کے شر سے جس کی۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5051]
فوائد ومسائل:

ان مبارک کلمات میں ایک مسلمان کے لئے اظہار عبودیت کے ساتھ ساتھ توحید الوہیت توحید ربوبیت۔
توحید اسماءوصفات اور نظام رسالت پر ایمان کی تجدید کا اظہار ہے۔


اور بالخصوص قرض اور فقیری سے پناہ مانگنے کی تعلیم ہے۔
کہ اس سبب سے انسان کا سکون وچین غارت ہوجاتا ہے۔
عزت دائو پر لگ جاتی ہے۔
علاوہ ازیں دین ودنیا کی اور بھی ڈھیروں مصیبتیں آڑے آجاتی ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 5051 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2713 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت سہیل رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ ابو صالح رحمۃ اللہ علیہ ہمیں یہ تلقین کرتے کہ جب ہم سے کوئی سونا چاہے تو وہ اپنی داہنی کروٹ پر لیٹے، پھر یوں دعا کرے۔"اے میرے اللہ! آسمانوں کے مالک زمین کے مالک اور عرش عظیم کے مالک ہمارے اور ہر چیز کے مالک دانے اور گٹھلی کو پھاڑنے والے اے تورات،انجیل اور فرقان (قرآن) کو نازل کرنے والے میں تیری پناہ مانگتا ہوں۔ ہر اس چیز کے شر سے جس کی پیشانی تیر ےقابو میں ہے۔ یعنی ہر مخلوق کے شر سے اے اللہ! تو ہی سب سے پہلا ... [صحيح مسلم:6889]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: اس حدیث میں بھی سونے کے لیے داہنی کروٹ پر لیٹنے کی روایت کی گئی ہے اور آپ کا اپنا معمول بھی یہی تھا، کیونکہ اس کروٹ پر لیٹنے کی صورت میں، دل جو بائیں پہلو میں ہے، لٹکتا رہتا ہے اور لیٹے وقت ذکر و دعا اور توجہ الی اللہ کے لیے یہی شکل زیادہ مناسب ہے۔
اور بقول علامہ ابن جوزی، اطباء کے نزدیک بدن کے لیے یہی مناسب ہے، کیونکہ دائیں پہلو پر لیٹنے سے کھانا نیچے چلا جاتا ہے اور پھر بعد میں بائیں پہلو پر لیٹنے سے وہ ہضم ہو جاتا ہے اور یہ دعا ان لوگوں کے زیادہ مناسب حال ہے، جو مقروض ہیں اور معاشی پریشانیوں میں مبتلا ہیں، بندہ یہ دعا کرے اور اپنے رب کریم سے یہ امید رکھے کہ وہ رزق کی کشادگی کی صورت پیدا فرما دے گا۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2713 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 3481 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´باب:۔۔۔`
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ فاطمہ (بنت رسول) رضی الله عنہا آپ کے پاس ایک خادم مانگنے آئیں، آپ نے ان سے کہا: تم یہ دعا پڑھتی رہو: «اللهم رب السموات السبع ورب العرش العظيم ربنا ورب كل شيء منزل التوراة والإنجيل والقرآن فالق الحب والنوى أعوذ بك من شر كل شيء أنت آخذ بناصيته أنت الأول فليس قبلك شيء وأنت الآخر فليس بعدك شيء وأنت الظاهر فليس فوقك شيء وأنت الباطن فليس دونك شيء اقض عني الدين وأغنني من الفقر» اے اللہ! تو ساتوں آسمانوں کا رب، عرش عظیم کا رب، اے ہمارے رب! اور ہر چیز کے رب، توراۃ، انجیل اور قرآن کے نازل کرنے والے، زمین پھاڑ کر دانے اگانے اور اکھوے نکالنے۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3481]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اے اللہ! تو ساتوں آسمانوں کا رب، عرش عظیم کا رب، اے ہمارے رب! اور ہرچیز کے رب، تو راۃ، انجیل اور قرآن کے نازل کرنے والے، زمین پھاڑ کر دانے اگانے اور اکھوے نکالنے والے، میں تیری پناہ چاہتا ہوں ہر چیز کے شر سے، جس کی پیشانی تیرے ہاتھ میں ہے، تو پہلا ہے (شروع سے ہے) تجھ سے پہلے کوئی چیز نہیں ہے، تو سب سے آخر ہے تیرے بعد کوئی چیز نہیں، تو سب سے ظاہر (یعنی اوپر ہے)، تیرے اوپر کوئی چیز نہیں ہے، تو پوشیدہ ہے سب کی نظروں سے، لیکن تم سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے، اے اللہ! تو میرے اوپر سے قرض اتار دے، اور مجھے محتاجی سے نکال کر مالدار کر دے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3481 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 3400 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´سوتے وقت پڑھی جانے والی دعاؤں سے متعلق ایک اور باب۔`
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں حکم دیتے تھے کہ جب ہم میں سے کوئی اپنے بستر پر سونے کے لیے جائے تو کہے: «اللهم رب السموات ورب الأرضين وربنا ورب كل شيء وفالق الحب والنوى ومنزل التوراة والإنجيل والقرآن أعوذ بك من شر كل ذي شر أنت آخذ بناصيته أنت الأول فليس قبلك شيء وأنت الآخر فليس بعدك شيء والظاهر فليس فوقك شيء والباطن فليس دونك شيء اقض عني الدين وأغنني من الفقر» اے آسمانوں اور زمینوں کے رب! اے ہمارے رب! اے ہر چیز کے رب! زمین چیر کر دانے اور گٹھلی سے پودے اگانے والے، توراۃ، انجیل اور قرآن نازل۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3400]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اے آسمانوں اور زمینوں کے رب! اے ہمارے رب! اے ہرچیز کے رب! زمین چیر کر دانے اور گٹھلی سے پودے اگانے والے، توراۃ، انجیل اور قرآن نازل کرنے والے، اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں ہر شر والی چیز کے شر سے، تو ہی ہر شر وفساد کی پیشانی اپنی گرفت میں لے سکتا ہے۔
تو ہی سب سے پہلے ہے تجھ سے پہلے کوئی چیز نہیں ہے، تو ہی سب سے آخر ہے، تیرے بعد کوئی چیز نہیں ہے، تو سب سے ظاہر (اوپر) ہے تیرے اوپر کوئی چیز نہیں ہے، تو باطن (نیچے وپوشیدہ) ہے تیرے سے نیچے کوئی چیز نہیں ہے، مجھ پر جو قرض ہے اسے تو ادا کر دے اور تو مجھے محتاجی سے نکال کر غنی کر دے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3400 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 3831 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک خادم طلب کرنے کے لیے آئیں، تو آپ نے ان سے فرمایا: میرے پاس تو خادم نہیں ہے جو میں تجھے دوں ، (یہ سن کر) وہ واپس چلی گئیں، اس کے بعد آپ خود ان کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: جو چیز تم نے طلب کی تھی وہ تمہیں زیادہ پسند ہے یا اس سے بہتر چیز تمہیں بتاؤں ؟ علی رضی اللہ عنہ نے فاطمہ رضی اللہ عنہا سے کہا: تم کہو کہ نہیں، بلکہ مجھے وہ چیز زیادہ پسند ہے جو خادم سے بہتر ہو، چنانچہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے یہی کہا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3831]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
 
(1)
  اللہ کا ذکر دنیا کے مال سے بہتر ہے۔

(2)
اللہ تعالیٰ اول وآخر ہے۔
وقت مخلوقا ت پر اثر انداز ہوتا ہے، خالق پر نہیں، اس کے لیے سب زمانے برابر ہیں۔

(3)
اللہ تعالیٰ سب سے بلند و بالا اور سب پر غالب ہے، اور اس کی قدرت مخلوق کے ہر ذرے پر محیط ہے اور علم و قدرت کے لحاظ سے وہ سب سے قریب ہے۔

(3)
اللہ تعالیٰ سے اس کی صفات کے وسیلے سے دعا کرنی چاہیے۔

(4)
فقر و غنا اللہ کے ہاتھ میں ہے، لہٰذا قرض و فقر سے نجات کے لیے مسنون دعا کے ذریعے سے اللہ کی مدد حاصل کرنی چاہیے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3831 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 3873 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´بستر پر لیٹتے وقت کیا دعا پڑھے؟`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے بستر پر تشریف لے جاتے تو یہ دعا پڑھتے: «اللهم رب السموات ورب الأرض ورب كل شيء فالق الحب والنوى منزل التوراة والإنجيل والقرآن العظيم أعوذ بك من شر كل دابة أنت آخذ بناصيتها أنت الأول فليس قبلك شيء وأنت الآخر فليس بعدك شيء وأنت الظاهر فليس فوقك شيء وأنت الباطن فليس دونك شيء اقض عني الدين وأغنني من الفقر» اے اللہ! آسمانوں اور زمین کے رب! ہر چیز کے رب! دانے اور گٹھلی کو پھاڑ کر پودا نکالنے والے! توراۃ، انجیل اور قرآن عظیم کو نازل کرنے والے! میں تیری پناہ چاہتا ہوں زمین پر رینگنے وال۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3873]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
اللہ کی صفات کا ذکر کرکے دعا کرنی چاہیے۔

(2)
اللہ تعالیٰ جسمانی ضروریات بھی پوری کرتا ہے۔
اور بندوں کومادی رزق دینے کےلئے دانے اور گھٹلیاں پھاڑ کر فصلیں اور درخت اُگاتا ہے۔
اور روحانی ضروریات بھی پوری کرتا ہے۔
اس مقصد کے لئے اس نے نبوت کا سلسلہ جاری فرما کر آسمانی کتابیں نازل کی ہیں۔

(3)
اس دعا میں قرض کی ادایئگی کےلئے اللہ کی صفت رزاقیت کا واسطہ دیا گیا ہے۔

(4)
زمان ومکان اللہ کی مخلوق ہیں۔
اس لئے وہ ان سب پر حاوی ہے۔
وہ زمان کے لحاظ سے اول وآخر ہے۔
اور مکان کے لحاظ سے تمام مخلوقات سے برتر (الظاہر)
بھی ہے۔
اور اپنی قدرت وعلم کے لحاظ سے قریب ترین (الباطن)
بھی۔

(5)
فقر کے ساتھ اگر اللہ کی طرف توجہ اور عبادت میں انہماک ہو تو یہ محمود ہے۔
تاکہ دل مال ودولت میں مشغول ہوکر اللہ سے غافل نہ ہوجائے۔
لیکن اگر فقر وفاقہ اس حد تک پہنچ جائے۔
کہ بنیادی ضروریات بھی پوری نہ ہوں۔
اور بندہ پیٹ بھرنے کےلئے کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے پر مجبور ہوجائے۔
یا مقروض ہوجائے جب کہ قرض کی ادایئگی کی کوئی اُمید نظر نہ آرہی ہو تو ایسا فقر مذموم ہے اس سے اللہ کی پناہ مانگنی چاہیے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3873 سے ماخوذ ہے۔