حدیث نمبر: 5044
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ بَعْضِ آلِ أُمِّ سَلَمَةَ " كَانَ فِرَاشُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوًا مِمَّا يُوضَعُ الْإِنْسَانُ فِي قَبْرِهِ ، وَكَانَ الْمَسْجِدُ عِنْدَ رَأْسِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ام سلمہ کی اولاد میں سے ایک شخص سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بستر اس طرح بچھایا جاتا جس طرح انسان اپنی قبر میں لٹایا جاتا ہے ، اور مسجد ( نماز پڑھنے کی جگہ یا مسجد نبوی ) آپ کے سرہانے ہوتی ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب النوم / حدیث: 5044
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, بعض آل أم سلمة : مجهول (انظر عون المعبود 471/4), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 175
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود (ضعیف) » (اس کی سند میں ایک مبہم راوی ہے، معلوم نہیں صحابی ہے یا تابعی)

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´آدمی سوتے وقت کدھر منہ کر کے سوئے؟`
ام سلمہ کی اولاد میں سے ایک شخص سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بستر اس طرح بچھایا جاتا جس طرح انسان اپنی قبر میں لٹایا جاتا ہے، اور مسجد (نماز پڑھنے کی جگہ یا مسجد نبوی) آپ کے سرہانے ہوتی۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5044]
فوائد ومسائل:
یہ روایت اگرچہ ضعیف ہے۔
لیکن دیگر صحیح احادیث میں یہ ہے کہ نبی کریمﷺ قبلہ رو ہوکر دایئں کروٹ پر سوتے تھے۔
جیسے کے اگلی روایت میں آرہا ہے۔
اس طرح مسجد نبوی آپ کے سر کی جانب ہوتی تھی۔
بعض نے یہ بھی مفہوم بیان کیا ہے۔
کہ آپ ﷺ کا مصلیٰ اور جائے نماز تہجد کےلئے آپ کے سر کے پاس ہی ہوتا تھا۔
غرض یہ ہے کہ آپﷺ سوتے وقت بھی ذکر اور عبادت کی تیاری سے غافل نہیں رہتے تھے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 5044 سے ماخوذ ہے۔