سنن ابي داود
أبواب النوم— ابواب: سونے سے متعلق احکام و مسائل
باب فِي الرَّجُلِ يَنْبَطِحُ عَلَى بَطْنِهِ باب: آدمی پیٹ کے بل لیٹے تو کیسا ہے؟
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ يَعِيشَ بْنِ طَخْفَةَ بْنِ قَيْسٍ الْغِفَارِيِّ ، قَالَ : كَانَ أَبِي مِنْ أَصْحَابِ الصُّفَّةِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " انْطَلِقُوا بِنَا إِلَى بَيْتِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا , فَانْطَلَقْنَا ، فَقَالَ : يَا عَائِشَةُ ، أَطْعِمِينَا فَجَاءَتْ بِحَشِيشَةٍ فَأَكَلْنَا ، ثُمَّ قَالَ : يَا عَائِشَةُ ، أَطْعِمِينَا , فَجَاءَتْ بِحَيْسَةٍ مِثْلِ الْقَطَاةِ فَأَكَلْنَا ، ثُمَّ قَالَ : يَا عَائِشَةُ ، اسْقِينَا , فَجَاءَتْ بِعُسٍّ مِنْ لَبَنٍ فَشَرِبْنَا ، ثُمَّ قَالَ : يَا عَائِشَةُ ، اسْقِينَا , فَجَاءَتْ بِقَدَحٍ صَغِيرٍ فَشَرِبْنَا ، ثُمَّ قَالَ : إِنْ شِئْتُمْ بِتُّمْ ، وَإِنْ شِئْتُمُ انْطَلَقْتُمْ إِلَى الْمَسْجِدِ , قال : فَبَيْنَمَا أَنَا مُضْطَجِعٌ فِي الْمَسْجِدِ مِنَ السَّحَرِ عَلَى بَطْنِي ، إِذَا رَجُلٌ يُحَرِّكُنِي بِرِجْلِهِ ، فَقَالَ : إِنَّ هَذِهِ ضِجْعَةٌ يُبْغِضُهَا اللَّهُ ، قَالَ : فَنَظَرْتُ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
´یعیش بن طخفہ بن قیس غفاری کہتے ہیں کہ` میرے والد اصحاب صفہ میں سے تھے تو ( ایک بار ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہمارے ساتھ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر چلو “ تو ہم گئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عائشہ ! ہمیں کھانا کھلاؤ “ وہ دلیا لے کر آئیں تو ہم نے کھایا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عائشہ ! ہمیں کھانا کھلاؤ “ تو وہ تھوڑا سا حیس ۱؎ لے کر آئیں ، قطاۃ پرند کے برابر ، تو ( اسے بھی ) ہم نے کھایا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عائشہ ! ہم کو پلاؤ “ تو وہ دودھ کا ایک بڑا پیالہ لے کر آئیں ، تو ہم نے پیا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( ہم لوگوں سے ) فرمایا : ” تم لوگ چاہو ( ادھر ہی ) سو جاؤ ، اور چاہو تو مسجد چلے جاؤ “ وہ کہتے ہیں : تو میں ( مسجد میں ) صبح کے قریب اوندھا ( پیٹ کے بل ) لیٹا ہوا تھا کہ یکایک کوئی مجھے اپنے پیر سے ہلا کر جگانے لگا ، اس نے کہا : اس طرح لیٹنے کو اللہ ناپسند کرتا ہے ، میں نے ( آنکھ کھول کر ) دیکھا تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
یعیش بن طخفہ بن قیس غفاری کہتے ہیں کہ میرے والد اصحاب صفہ میں سے تھے تو (ایک بار) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " ہمارے ساتھ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر چلو " تو ہم گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " عائشہ! ہمیں کھانا کھلاؤ " وہ دلیا لے کر آئیں تو ہم نے کھایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " عائشہ! ہمیں کھانا کھلاؤ " تو وہ تھوڑا سا حیس ۱؎ لے کر آئیں، قطاۃ پرند کے برابر، تو (اسے بھی) ہم نے کھایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " عائشہ! ہم کو پلاؤ " تو وہ دودھ کا ایک بڑا پیالہ لے کر آئیں، تو ہم نے پیا، پھر آپ صلی ا۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5040]
پیٹ کے بل سونا ناجائز ہے۔
افضل یہ ہے کہ دایئں کروٹ سویا جائے۔