حدیث نمبر: 5035
حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ الْمِصْرِيُّ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا أَنَّهُ رَفَعَ الْحَدِيثَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَاهُ ، قَالَ أبو داود : رَوَاهُ أَبُو نُعَيْمٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´سعید بن ابی سعید ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے` اسی مفہوم کی حدیث کو مرفوعاً روایت کرتے ہیں ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے ابونعیم نے موسی بن قیس سے ، موسیٰ نے محمد بن عجلان سے ، ابن عجلان نے سعید سے ، سعید نے ابوہریرہ سے ، ابوہریرہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأدب / حدیث: 5035
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, شك ابن عجلان فيه و عنعن أيضًا, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 174
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 13051) (حسن) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´چھینکنے والے کا جواب کتنی بار دیا جائے؟`
سعید بن ابی سعید ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اسی مفہوم کی حدیث کو مرفوعاً روایت کرتے ہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابونعیم نے موسی بن قیس سے، موسیٰ نے محمد بن عجلان سے، ابن عجلان نے سعید سے، سعید نے ابوہریرہ سے، ابوہریرہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 5035]
فوائد ومسائل:
بعض محققین نے اس روایت کو حسن قرار دیا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 5035 سے ماخوذ ہے۔