حدیث نمبر: 5025
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " رَأَيْتُ اللَّيْلَةَ كَأَنَّا فِي دَارِ عُقْبَةَ بْنِ رَافِعٍ ، وَأُتِينَا بِرُطَبٍ مِنْ رُطَبِ ابْنِ طَابٍ ، فَأَوَّلْتُ أَنَّ الرِّفْعَةَ لَنَا فِي الدُّنْيَا وَالْعَاقِبَةَ فِي الْآخِرَةِ ، وَأَنَّ دِينَنَا قَدْ طَابَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں نے آج رات دیکھا جیسے ہم عقبہ بن رافع کے گھر میں ہوں ، اور ہمارے پاس ابن طاب ۱؎ کی رطب تازہ ( کھجوریں ) لائی گئیں ، تو میں نے یہ تعبیر کی کہ دنیا میں بلندی ہمارے واسطے ہے اور آخرت کی عاقبت ۲؎ بھی اور ہمارا دین سب سے عمدہ اور اچھا ہو گیا “ ۔

وضاحت:
۱؎: ابن طاب ایک قسم کی کھجورہے، اس سے دین کی عمدگی اور پاکی نکلی رافع کے لفظ سے دنیا میں رفعت اور بلندی۔
۲؎: اور عقبہ عاقبت کی بھلائی۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأدب / حدیث: 5025
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (2270)
تخریج حدیث « صحیح مسلم/الرؤیا 4 (2270)، (تحفة الأشراف: 316)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/286) (صحیح) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 2270

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´خواب کا بیان۔`
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے آج رات دیکھا جیسے ہم عقبہ بن رافع کے گھر میں ہوں، اور ہمارے پاس ابن طاب ۱؎ کی رطب تازہ (کھجوریں) لائی گئیں، تو میں نے یہ تعبیر کی کہ دنیا میں بلندی ہمارے واسطے ہے اور آخرت کی عاقبت ۲؎ بھی اور ہمارا دین سب سے عمدہ اور اچھا ہو گیا۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 5025]
فوائد ومسائل:
خواب کی تعبیر میں بعض اوقات الفاظ ومناظرسے بھی معنی اخذ کیے جاتے ہیں۔
تو مندرجہ بالا خواب میں لفظ عقبہ سے عاقبت (عمدہ انجام) رافع سے رفعت وسربلندی اور ابن طاب سے طیب اور عمدہ ہونا سمجھا گیا ہے۔
جو بحمد للہ ایک تاریخی حققیت ثابت ہوا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 5025 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2270 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ایک رات میں نے خواب میں دیکھا،گویا کہ ہم عقبہ بن رافع کے گھر میں ہیں تو ہمارے پاس ابن طاب کی تازہ کھجوروں میں سے کھجوریں لائی گئیں تو میں نے تعبیر لگائی،دنیا میں ہمارے لیے رفعت ہے اور آخرت میں اچھاانجام اور ہمارا دین پختہ اور مکمل ہوگیا ہے۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:5932]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
رطب ابن طاب: ابن طاب کی ایک مدنی آدمی ہے، جس کی طرف کھجوروں کی ایک قسم منسوب ہے، جس کو مختلف نام دئیے جاتے تھے۔
رطب ابن طاب، تمر ابن طاب، عذق ابن طاب، عرجون ابن طاب۔
فوائد ومسائل: خواب کی تعبیر بیان کی مختلف صورتیں ہیں: 1۔
بعض دفعہ الفاظ سے اخذ کیا جاتا ہے، جیسا کہ آپ نے عقبہ بن رافع کے گھر میں ہونے کی بنا پر، رافع سے رفعت اور بلندی نکال لی، عقبہ سے آخرت کا انجام اخذ کر لیا، رُطب جو آہستہ آہستہ تدریجا پکتی ہے اور دل کے لیے شیریں اور سہل ہوتی ہیں، شریعت اور دین کی تکمیل اخذ کر لی، کیونکہ دین سہل اور آسان ہے اور آہستہ آہستہ پایہ تکمیل کو پہنچا ہے۔

خواب کی شکل و صورت سے ملتی جلتی صورت نکال لی جاتی ہے، خواب میں کسی کو پڑھاتے دیکھا تو معلوم ہوا، اگر صاحب علم ہے تو قاضی بنے گا، اقتدار حاصل ہو گا، اولاد ملے گی، کسی محکمہ کا رئیس ہو گا۔

خواب میں نظر آنے والی چیز کا مقصد اور مراد کے مطابق تعبیر ہو گی، سفر کر رہا ہے تو سفر درپیش ہو گا، منڈی گیا ہے تو کمائی کرے گا، گھر بنا رہا ہے تو شادی ہو گی یا خادمہ ملے گی۔

جس لفظ کا مصداق قرآن و سنت، کلام عرب، جاہلی اشعار، حکیمانہ کلام یا لوگوں کے کلام میں معروف ہے، وہی مراد ہو گا، جیسے خشبیہ لکڑی کی تعبیر منافق ہے، کیونکہ قرآن نے منافقوں کو خُشُبٌ مُّسَنَّدَةٌ کہا ہے، فارہ (چوہیا)
سے مراد فاسق ہو گا، کیونکہ آپ نے اس کو فويسقة کا نام دیا ہے، زجاجۃ سے مراد عورت ہے، بعض شعروں میں عورت کو اس سے تعبیر کیا گیا ہے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو قواریر کا نام دیا۔
(تکملہ ج 4 ص 461-462)
۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2270 سے ماخوذ ہے۔