حدیث نمبر: 5010
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ،عَنْ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ بْنِ عَبْدِ يَغُوثَ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ مِنَ الشِّعْرِ حِكْمَةً ".
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بعض اشعار دانائی پر مبنی ہوتے ہیں “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأدب / حدیث: 5010
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (6145)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/الأدب 9 (6145)، سنن ابن ماجہ/الأدب 41 (3755)، (تحفة الأشراف: 59)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/125، 126)، سنن الدارمی/الاستئذان 68 (2746) (صحیح) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 6145 | سنن ابن ماجه: 3755

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 6145 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
6145. حضرت ابی بن کعب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "کچھ اشعار بہت حکمت بھرے ہوتے ہیں۔"[صحيح بخاري، حديث نمبر:6145]
حدیث حاشیہ: معلوم ہوا کہ پراز حکمت ودانش واسلامیات کے اشعار مذموم نہیں ہیں۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6145 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 6145 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
6145. حضرت ابی بن کعب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "کچھ اشعار بہت حکمت بھرے ہوتے ہیں۔"[صحيح بخاري، حديث نمبر:6145]
حدیث حاشیہ:
(1)
حکمت سے مراد وہ سچی بات ہے جو واقع کے مطابق ہو۔
جو اشعار وعظ و نصیحت اور حق و صداقت پر مبنی ہوں انہیں پڑھنے میں کوئی حرج نہیں، البتہ وہ اشعار جو بےہودہ گوئی، جھوٹ اور باطل سے ہم آہنگ ہوں انہیں پڑھنے سے پرہیز کرنا چاہیے۔
ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابۂ کرام، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں دور جاہلیت کی باتوں کا تذکرہ کرتے، شعر پڑھا کرتے تھے لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں منع نہیں کرتے تھے بلکہ بعض اوقات تبسم فرما کر محظوظ ہوتے تھے۔
(مسند أحمد: 5/91) (2)
شارح صحیح بخاری ابن بطال نے کہا کہ جو شعر اللہ تعالیٰ کے ذکر، اس کی تعظیم و تکریم اور اس کی توحید و اطاعت پر مشتمل ہوں انہی کو حدیث میں ''حکمت'' سے تعبیر کیا گیا ہے اور جو فحش، بے ہودہ اور جھوٹ ہوں وہ قابل مذمت ہیں، ایسے اشعار نہیں پڑھنے چاہئیں۔
(فتح الباري: 663/10)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6145 سے ماخوذ ہے۔