حدیث نمبر: 501
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ , وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُثْمَانُ بْنُ السَّائِبِ ، أَخْبَرَنِي أَبِي ، وَأُمُّ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي مَحْذُورَةَ ،عَنْ أَبِي مَحْذُورَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، نَحْوَ هَذَا الْخَبَرِ ، وَفِيهِ : الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ ، الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ فِي الْأُولَى مِنَ الصُّبْحِ ، قَالَ أَبُو دَاوُد : وَحَدِيثُ مُسَدَّدٍ أَبْيَنُ ، قَالَ فِيهِ : قَالَ : وَعَلَّمَنِي الْإِقَامَةَ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ ، اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ ، اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وقَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ : وَإِذَا أَقَمْتَ الصَّلاةَ ، فَقُلْهَا مَرَّتَيْنِ : قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ ، قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ ، أَسَمِعْتَ ؟ قَالَ : فَكَانَ أَبُو مَحْذُورَةَ لَا يَجُزُّ نَاصِيَتَهُ وَلَا يَفْرُقُهَا ، لِأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسَحَ عَلَيْهَا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´اس سند سے بھی ابو محذورہ رضی اللہ عنہ سے اسی طرح مروی ہے کہ` پہلی یعنی صبح کی اذان میں «الصلاة خير من النوم الصلاة خير من النوم» ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : مسدد کی روایت زیادہ واضح ہے ، اس میں یہ ہے کہ : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دوہری تکبیر سکھائی «الله أكبر الله أكبر الله أكبر الله أكبر أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن محمدا رسول الله أشهد أن محمدا رسول الله حى على الصلاة حى على الصلاة حى على الفلاح حى على الفلاح الله أكبر الله أكبر لا إله إلا الله» ۔ عبدالرزاق کی روایت میں ہے : اور جب تم نماز کی اقامت کہو تو دوبار «قد قامت الصلاة قد قامت الصلاة» کہو ، ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابومحذورہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا : ) کیا تم نے سن لیا ؟ ( یعنی اذان و اقامت کو سمجھ لیا ہے ؟ ) ( سائب نے کہا ) اس میں یہ بھی ہے کہ ابو محذورہ اپنی پیشانی کے بال نہ ہی کاٹا کرتے تھے اور نہ ہی مانگ نکالا کرتے تھے ، اس لیے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر اپنا ہاتھ پھیرا تھا ۔

وضاحت:
۱؎: فجر کی اذان میں «الصلاة خير من النوم» کہنا مسنون اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم ہے۔ ابومحذورہ رضی اللہ عنہ کی ترجیع والی اذان ہو تو تکبیر دوہری ہو گی جیسے کہ بلال رضی اللہ عنہ کی اذان ہے۔ اگر اذان بلال رضی اللہ عنہ والی ہو گی یعنی بغیر ترجیع کے اگر ہو گی تو اس کی تکبیر (اقامت) اکہری ہو گی۔ جیسا کہ پہلے گزرا ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الصلاة / حدیث: 501
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح دون قوله فكان أبو محذورة لا يجز , شیخ زبیر علی زئی: حسن, وأخرجه النسائي (634) وسنده حسن
تخریج حدیث t

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´اذان کس طرح دی جائے؟`
اس سند سے بھی ابو محذورہ رضی اللہ عنہ سے اسی طرح مروی ہے کہ پہلی یعنی صبح کی اذان میں «الصلاة خير من النوم الصلاة خير من النوم» ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مسدد کی روایت زیادہ واضح ہے، اس میں یہ ہے کہ: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دوہری تکبیر سکھائی «الله أكبر الله أكبر الله أكبر الله أكبر أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن محمدا رسول الله أشهد أن محمدا رسول الله حى على الصلاة حى على الصلاة حى على الفلاح حى على الفلاح الله أكبر الله أكبر لا إله إلا الله» ۔ عبدالرزاق کی روایت میں ہے: اور جب تم نماز کی اقامت کہو تو دوبار «قد قامت الصلاة قد قامت الصلاة» کہو، (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابومحذورہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا:) کیا تم نے سن لیا؟ (یعنی اذان و اقامت کو سمجھ لیا ہے؟) (سائب نے کہا) اس میں یہ بھی ہے کہ ابو محذورہ اپنی پیشانی کے بال نہ ہی کاٹا کرتے تھے اور نہ ہی مانگ نکالا کرتے تھے، اس لیے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر اپنا ہاتھ پھیرا تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة /حدیث: 501]
501۔ اردو حاشیہ:
➊ حضرت ابومحذورہ رضی اللہ عنہ کی ترجیح والی اذان ہو تو تکبیر دہری ہو گی۔ جیسے کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی اذان ہے۔ اذان حضرت بلال والی یعنی بغیر ترجیح کے ہو۔ تو تکبیر اکہری۔ جیسا کہ پہلے گزرا ہے۔
➋ زیر نظر حدیث میں صحیح ترین روایت میں «الله اكبر» کے کلمات چار بار ہیں۔
➌ شیخ البانی رحمہ اللہ کی تحقیق کے مطابق حضرت ابومحذورہ رضی اللہ عنہ کا یہ عمل کہ وہ اپنے ماتھے کے بال نہ کاٹتے تھے یا ان میں مانگ نہ نکالتے تھے صحیح اور ثابت نہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 501 سے ماخوذ ہے۔