حدیث نمبر: 5004
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَّهُمْ كَانُوا يَسِيرُونَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَنَامَ رَجُلٌ مِنْهُمْ ، فَانْطَلَقَ بَعْضُهُمْ إِلَى حَبْلٍ مَعَهُ ، فَأَخَذَهُ فَفَزِعَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يُرَوِّعَ مُسْلِمًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ سے روایت ہے کہ` ہم سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بیان کیا کہ وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جا رہے تھے ، ان میں سے ایک صاحب سو گئے ، کچھ لوگ اس رسی کے پاس گئے ، جو اس کے پاس تھی اور اسے لے لیا تو وہ ڈر گیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مسلمان کے لیے درست نہیں کہ وہ کسی مسلمان کو ڈرائے ۱؎ “ ۔

وضاحت:
۱؎: بطور مذاق بھی ایسا کرنا صحیح نہیں کیونکہ اس میں ایذا رسانی ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأدب / حدیث: 5004
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن, مشكوة المصابيح (3545), أخرجه أحمد (5/362) وللحديث شواھد عند الطحاوي (تحفة الأخيار 7/104 ح4995) والطبراني (معجم البحرين 435) وغيرھما
تخریج حدیث « تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 15625)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/362) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´ہنسی مذاق میں کوئی کسی کی چیز لے لے تو کیسا ہے؟`
عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ سے روایت ہے کہ ہم سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بیان کیا کہ وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جا رہے تھے، ان میں سے ایک صاحب سو گئے، کچھ لوگ اس رسی کے پاس گئے، جو اس کے پاس تھی اور اسے لے لیا تو وہ ڈر گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان کے لیے درست نہیں کہ وہ کسی مسلمان کو ڈرائے ۱؎۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 5004]
فوائد ومسائل:
ہنسی مذاق میں بھی کسی مسلمان کو ڈرانا جائز نہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 5004 سے ماخوذ ہے۔