حدیث نمبر: 5003
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ . ح وحَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاق ، عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَا يَأْخُذَنَّ أَحَدُكُمْ مَتَاعَ أَخِيهِ لَاعِبًا وَلَا جَادًّا ، وَقَالَ سُلَيْمَانُ : لَعِبًا وَلَا جِدًّا ، وَمَنْ أَخَذَ عَصَا أَخِيهِ فَلْيَرُدَّهَا " , لَمْ يَقُلْ ابْنُ بَشَّارٍ : ابْنَ يَزِيدَ ، وَقَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´یزید بن سعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” تم میں سے کوئی اپنے بھائی کا سامان ( بلا اجازت ) نہ لے نہ ہنسی میں اور نہ ہی حقیقت میں ۱؎ “ ۔ سلیمان کی روایت میں ( «لاعبا ولا جادا‏"‏» کے بجائے ) «لعبا ولا جدا» ہے ، اور جو کوئی اپنے بھائی کی لاٹھی لے تو چاہیئے کہ ( ضرورت پوری کر کے ) اسے لوٹا دے ۔ ابن بشار نے صرف عبداللہ بن سائب کہا ہے ابن یزید کا اضافہ نہیں کیا ہے اور ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ، کہنے کے بجائے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہا ہے ۔

وضاحت:
۱؎: حقیقت میں لینے کی ممانعت کی وجہ تو ظاہر ہے کہ یہ چوری ہے اور ہنسی میں لینے کی ممانعت کی وجہ یہ ہے کہ اس میں کوئی فائدہ نہیں بلکہ کبھی کبھی یہ چیز سامان والے کی ناراضگی اور اس کے لئے تکلیف کا باعث بن جاتی ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأدب / حدیث: 5003
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح, مشكوة المصابيح (2948), أخرجه الترمذي (2160 وسنده صحيح),
تخریج حدیث « سنن الترمذی/الفتن 3 (2160)، (تحفة الأشراف: 11827)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/221) (حسن) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 2160

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´ہنسی مذاق میں کوئی کسی کی چیز لے لے تو کیسا ہے؟`
یزید بن سعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: تم میں سے کوئی اپنے بھائی کا سامان (بلا اجازت) نہ لے نہ ہنسی میں اور نہ ہی حقیقت میں ۱؎۔‏‏‏‏ سلیمان کی روایت میں («لاعبا ولا جادا‏"‏» کے بجائے) «لعبا ولا جدا» ہے، اور جو کوئی اپنے بھائی کی لاٹھی لے تو چاہیئے کہ (ضرورت پوری کر کے) اسے لوٹا دے۔ ابن بشار نے صرف عبداللہ بن سائب کہا ہے ابن یزید کا اضافہ نہیں کیا ہے اور (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا، کہنے کے بجائے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 5003]
فوائد ومسائل:
مسلمان کی جان ومال اورعزت وآبرو انتہائی محترم ومحفوظ چیزیں ہیں۔
ہنسی مزاح میں بھی کسی کی ہتک کر دینا یا مال ہڑپ کر لینا حرام ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 5003 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 2160 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان کو ڈرانا دھمکانا ناجائز ہے۔`
یزید بن سائب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص کھیل کود میں ہو یا سنجیدگی میں اپنے بھائی کی لاٹھی نہ لے اور جو اپنے بھائی کی لاٹھی لے، تو وہ اسے واپس کر دے۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب الفتن/حدیث: 2160]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
ان کا نام یزید بن سعید ہے، انہیں یزید بن سائب رضی اللہ عنہ بھی کہا جاتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2160 سے ماخوذ ہے۔