سنن ابي داود
كتاب الأدب— کتاب: آداب و اخلاق کا بیان
باب مَا جَاءَ فِي الْمِزَاحِ باب: ہنسی مذاق (مزاح) کا بیان۔
حدیث نمبر: 5002
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قال لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا ذَا الْأُذُنَيْنِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے دو کانوں والے ! “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 3828 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´انس بن مالک رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان`
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ کبھی کبھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کہتے: " اے دو کانوں والے۔" ابواسامہ کہتے ہیں: یعنی آپ ان سے یہ مذاق کے طور پر فرماتے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3828]
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ کبھی کبھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کہتے: " اے دو کانوں والے۔" ابواسامہ کہتے ہیں: یعنی آپ ان سے یہ مذاق کے طور پر فرماتے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3828]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اور مذاق کسی محبوب آدمی ہی سے کیا جاتا ہے۔
وضاحت:
1؎:
اور مذاق کسی محبوب آدمی ہی سے کیا جاتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3828 سے ماخوذ ہے۔