سنن ابي داود
كتاب الأدب— کتاب: آداب و اخلاق کا بیان
باب مَا جَاءَ فِي الْمِزَاحِ باب: ہنسی مذاق (مزاح) کا بیان۔
حدیث نمبر: 5000
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْعَلَاءِ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ ، قَالَ : " أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ وَهُوَ فِي قُبَّةٍ مِنْ أَدَمٍ ، فَسَلَّمْتُ ، فَرَدَّ وَقَالَ : ادْخُلْ , فَقُلْتُ : أَكُلِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ , قال : كُلُّكَ فَدَخَلْتُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں غزوہ تبوک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، آپ چمڑے کے ایک خیمے میں قیام پذیر تھے ، میں نے آپ کو سلام کیا تو آپ نے جواب دیا ، اور فرمایا : ” اندر آ جاؤ “ تو میں نے کہا کہ پورے طور سے اللہ کے رسول ! آپ نے فرمایا : ” پورے طور سے “ چنانچہ میں اندر چلا گیا ۔