سنن ابي داود
كتاب الطهارة— کتاب: طہارت کے مسائل
باب فِي الرَّجُلِ يَسْتَاكُ بِسِوَاكِ غَيْرِهِ باب: دوسرے کی مسواک استعمال کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 50
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا عَنْبَسَةُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَنُّ وَعِنْدَهُ رَجُلَانِ ، أَحَدُهُمَا أَكْبَرُ مِنَ الْآخَرِ ، فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ فِي فَضْلِ السِّوَاكِ أَنْ كَبِّرْ أَعْطِ السِّوَاكَ أَكْبَرَهُمَا " ، قَالَ أَحْمَدُ هُوَ ابْنُ حَزْمٍ : قَالَ لَنَا أَبُو سَعِيدٍ هُوَ ابْنُ الْأَعْرَابِيِّ ، هَذَا مِمَّا تَفَرَّدَ بِهِ أَهْلُ الْمَدِينَةِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسواک کر رہے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو آدمی تھے ، ان میں ایک دوسرے سے عمر میں بڑا تھا ، اسی وقت اللہ نے مسواک کی فضیلت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل فرمائی اور حکم ہوا کہ آپ اپنی مسواک ان دونوں میں سے بڑے کو دے دیجئیے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´دوسرے کی مسواک استعمال کرنے کا بیان`
«. . . فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ فِي فَضْلِ السِّوَاكِ أَنْ كَبِّرْ أَعْطِ السِّوَاكَ أَكْبَرَهُمَا . . .»
”. . . آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل فرمائی اور حکم ہوا کہ آپ اپنی مسواک ان دونوں میں سے بڑے کو دے دیجئیے . . .“ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ: 50]
«. . . فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ فِي فَضْلِ السِّوَاكِ أَنْ كَبِّرْ أَعْطِ السِّوَاكَ أَكْبَرَهُمَا . . .»
”. . . آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل فرمائی اور حکم ہوا کہ آپ اپنی مسواک ان دونوں میں سے بڑے کو دے دیجئیے . . .“ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ: 50]
فوائد و مسائل:
➊ معلوم ہوا کہ جب کسی کو کوئی چیز دینی ہو تو بڑی عمر والے کو فوقیت دی جائے بشرطیکہ ترتیب سے نہ بیٹھے ہوں۔ اگر ترتیب سے بیٹھے ہوں تو دائیں طرف والے کا حق فائق ہو گا، خواہ چھوٹا ہی ہو۔ ایسے ہی بات چیت کرنے اور راہ چلنے میں بھی بڑی عمر والے کو اولیت دی جانی چاہیے۔
➋ کوئی اپنی استعمال شدہ مسواک دوسرے کو دے تو اس کے استعمال کر لینے میں کوئی حرج نہیں اور ظاہر ہے کہ دھو کر ہی استعمال ہو گی۔ مگر نئی تہذیب کے دلدادہ لوگوں کو اس سے گھن آتی ہے، اور یہ ان کی شریعت سے ناواقفیت کی دلیل ہے۔
➊ معلوم ہوا کہ جب کسی کو کوئی چیز دینی ہو تو بڑی عمر والے کو فوقیت دی جائے بشرطیکہ ترتیب سے نہ بیٹھے ہوں۔ اگر ترتیب سے بیٹھے ہوں تو دائیں طرف والے کا حق فائق ہو گا، خواہ چھوٹا ہی ہو۔ ایسے ہی بات چیت کرنے اور راہ چلنے میں بھی بڑی عمر والے کو اولیت دی جانی چاہیے۔
➋ کوئی اپنی استعمال شدہ مسواک دوسرے کو دے تو اس کے استعمال کر لینے میں کوئی حرج نہیں اور ظاہر ہے کہ دھو کر ہی استعمال ہو گی۔ مگر نئی تہذیب کے دلدادہ لوگوں کو اس سے گھن آتی ہے، اور یہ ان کی شریعت سے ناواقفیت کی دلیل ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 50 سے ماخوذ ہے۔