سنن ابي داود
كتاب الأدب— کتاب: آداب و اخلاق کا بیان
باب مَا جَاءَ فِي الْمِزَاحِ باب: ہنسی مذاق (مزاح) کا بیان۔
حدیث نمبر: 4998
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، " أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، احْمِلْنِي , قال النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّا حَامِلُوكَ عَلَى وَلَدِ نَاقَةٍ , قال : وَمَا أَصْنَعُ بِوَلَدِ النَّاقَةِ , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَهَلْ تَلِدُ الْإِبِلَ إِلَّا النُّوقُ ".
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! مجھے سواری عطا فرما دیجئیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہم تو تمہیں اونٹنی کے بچے پر سوار کرائیں گے “ وہ بولا : میں اونٹنی کے بچے کا کیا کروں گا ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” آخر ہر اونٹ اونٹنی ہی کا بچہ تو ہوتا ہے “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´ہنسی مذاق (مزاح) کا بیان۔`
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے سواری عطا فرما دیجئیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ہم تو تمہیں اونٹنی کے بچے پر سوار کرائیں گے “ وہ بولا: میں اونٹنی کے بچے کا کیا کروں گا؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” آخر ہر اونٹ اونٹنی ہی کا بچہ تو ہوتا ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4998]
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے سواری عطا فرما دیجئیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ہم تو تمہیں اونٹنی کے بچے پر سوار کرائیں گے “ وہ بولا: میں اونٹنی کے بچے کا کیا کروں گا؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” آخر ہر اونٹ اونٹنی ہی کا بچہ تو ہوتا ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4998]
فوائد ومسائل:
خوش طبعی اور ہنسی مذاق انسانی طبیعت کا لازمہ ہے، اس سے طبیعت میں بشاشت آجاتی ہے۔
اور رسول اللہ ﷺ بھی اس سے موصوف تھے، مگر اس میں حق وصدق کےسوا کچھ نہ ہوتا تھا۔
بخلاف اس کے جو کوئی جھوٹ بول کر ہنسے ہنسائے وہ گناہ کبیرہ کا مرتکب ہوتا ہے۔
خوش طبعی اور ہنسی مذاق انسانی طبیعت کا لازمہ ہے، اس سے طبیعت میں بشاشت آجاتی ہے۔
اور رسول اللہ ﷺ بھی اس سے موصوف تھے، مگر اس میں حق وصدق کےسوا کچھ نہ ہوتا تھا۔
بخلاف اس کے جو کوئی جھوٹ بول کر ہنسے ہنسائے وہ گناہ کبیرہ کا مرتکب ہوتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4998 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 1991 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´ہنسی مذاق، خوش طبعی اور دل لگی کا بیان۔`
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سواری کی درخواست کی، آپ نے فرمایا: ” میں تمہیں سواری کے لیے اونٹنی کا بچہ دوں گا “، اس آدمی نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں اونٹنی کا بچہ کیا کروں گا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” بھلا اونٹ کو اونٹنی کے سوا کوئی اور بھی جنتی ہے؟ “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب البر والصلة/حدیث: 1991]
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سواری کی درخواست کی، آپ نے فرمایا: ” میں تمہیں سواری کے لیے اونٹنی کا بچہ دوں گا “، اس آدمی نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں اونٹنی کا بچہ کیا کروں گا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” بھلا اونٹ کو اونٹنی کے سوا کوئی اور بھی جنتی ہے؟ “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب البر والصلة/حدیث: 1991]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یعنی اونٹ اونٹنی کا بچہ ہی تو ہے، ایسے ہی آپ ﷺ نے ایک موقع پر فرمایا تھا: (لَا تَدخُلُ الجَنَّةَ عَجُوز) یعنی بوڑھیا جنت میں نہیں جائیں گی، جس کا مطلب یہ تھا کہ جنت میں داخل ہوتے وقت ہر عورت نوجوان ہوگی، اسی طرح نبی اکرم ﷺ کے اس فرمان: -إني حاملك على ولد الناقة) کا بھی حال ہے، مفہوم یہ ہے کہ اگر کہنے والے کی بات پر غور کرلیاجائے تو پھر سوال کی ضرورت ہی پیش نہیں آئے گی۔
وضاحت:
1؎:
یعنی اونٹ اونٹنی کا بچہ ہی تو ہے، ایسے ہی آپ ﷺ نے ایک موقع پر فرمایا تھا: (لَا تَدخُلُ الجَنَّةَ عَجُوز) یعنی بوڑھیا جنت میں نہیں جائیں گی، جس کا مطلب یہ تھا کہ جنت میں داخل ہوتے وقت ہر عورت نوجوان ہوگی، اسی طرح نبی اکرم ﷺ کے اس فرمان: -إني حاملك على ولد الناقة) کا بھی حال ہے، مفہوم یہ ہے کہ اگر کہنے والے کی بات پر غور کرلیاجائے تو پھر سوال کی ضرورت ہی پیش نہیں آئے گی۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1991 سے ماخوذ ہے۔