حدیث نمبر: 4996
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ ، عَنْ بُدَيْلٍ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْحَمْسَاءِ ، قَالَ : " بَايَعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَيْعٍ قَبْلَ أَنْ يُبْعَثَ ، وَبَقِيَتْ لَهُ بَقِيَّةٌ فَوَعَدْتُهُ أَنْ آتِيَهُ بِهَا فِي مَكَانِهِ ، فَنَسِيتُ ثُمَّ ذَكَرْتُ بَعْدَ ثَلَاثٍ ، فَجِئْتُ فَإِذَا هُوَ فِي مَكَانِهِ ، فَقَالَ : يَا فَتًى ، لَقَدْ شَقَقْتَ عَلَيَّ أَنَا هَاهُنَا مُنْذُ ثَلَاثٍ أَنْتَظِرُكَ " , قال أبو داود : قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى : هَذَا عِنْدَنَا عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، قَالَ أبو داود : هَكَذَا بَلَغَنِي ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ أبو داود : بَلَغَنِي أَنَّ بِشْرَ بْنَ السَّرِيِّ رَوَاهُ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن ابو حمساء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے بعثت سے پہلے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک چیز خریدی اور اس کی کچھ قیمت میرے ذمے رہ گئی تو میں نے آپ سے وعدہ کیا کہ میں اسی جگہ اسے لا کر دوں گا ، پھر میں بھول گیا ، پھر مجھے تین ( دن ) کے بعد یاد آیا تو میں آیا ، دیکھا کہ آپ اسی جگہ موجود ہیں ، آپ نے فرمایا : ” اے جوان ! تو نے مجھے زحمت میں ڈال دیا ، اسی جگہ تین دن سے میں تیرا انتظار کر رہا ہوں “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´وعدہ کا بیان۔`
عبداللہ بن ابو حمساء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے بعثت سے پہلے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک چیز خریدی اور اس کی کچھ قیمت میرے ذمے رہ گئی تو میں نے آپ سے وعدہ کیا کہ میں اسی جگہ اسے لا کر دوں گا، پھر میں بھول گیا، پھر مجھے تین (دن) کے بعد یاد آیا تو میں آیا، دیکھا کہ آپ اسی جگہ موجود ہیں، آپ نے فرمایا: ” اے جوان! تو نے مجھے زحمت میں ڈال دیا، اسی جگہ تین دن سے میں تیرا انتظار کر رہا ہوں۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4996]
عبداللہ بن ابو حمساء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے بعثت سے پہلے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک چیز خریدی اور اس کی کچھ قیمت میرے ذمے رہ گئی تو میں نے آپ سے وعدہ کیا کہ میں اسی جگہ اسے لا کر دوں گا، پھر میں بھول گیا، پھر مجھے تین (دن) کے بعد یاد آیا تو میں آیا، دیکھا کہ آپ اسی جگہ موجود ہیں، آپ نے فرمایا: ” اے جوان! تو نے مجھے زحمت میں ڈال دیا، اسی جگہ تین دن سے میں تیرا انتظار کر رہا ہوں۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4996]
فوائد ومسائل:
یہ روایت بھی ضعیف ہے تاہم حقیقت یہی ہے کہ رسول اللہﷺ وعدے کے انتہائی پکے ہیں۔
یہ روایت بھی ضعیف ہے تاہم حقیقت یہی ہے کہ رسول اللہﷺ وعدے کے انتہائی پکے ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4996 سے ماخوذ ہے۔