سنن ابي داود
كتاب الأدب— کتاب: آداب و اخلاق کا بیان
باب فِي صَلاَةِ الْعَتَمَةِ باب: نماز عشاء کو عتمہ کہنا کیسا ہے؟
حدیث نمبر: 4985
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا مِسْعَرُ بْنُ كِدَامٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، قَالَ : قَالَ رَجُلٌ ، قَالَ مِسْعَرٌ: أُرَاهُ مِنْ خُزَاعَةَ : " لَيْتَنِي صَلَّيْتُ فَاسْتَرَحْتُ ، فَكَأَنَّهُمْ عَابُوا عَلَيْهِ ذَلِكَ ، فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " يَا بِلَالُ ، أَقِمْ الصَّلَاةَ أَرِحْنَا بِهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سالم بن ابی الجعد کہتے ہیں کہ` ایک شخص نے کہا : کاش میں نماز پڑھ لیتا تو مجھے سکون مل جاتا ، مسعر کہتے ہیں : میرا خیال ہے یہ بنو خزاعہ کا کوئی آدمی تھا ، تو لوگوں نے اس پر نکیر کی کہ یہ نماز کو تکلیف کی چیز سمجھتا ہے تو اس نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا ہے ، آپ فرما رہے تھے : ” اے بلال نماز کے لیے اقامت کہو اور ہمیں اس سے آرام و سکون پہنچاؤ “ ۔