حدیث نمبر: 4973
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ حَيَّانَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَهُمْ ، فَقَالَ : أَمَّا بَعْدُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں خطبہ دیا تو «أما بعد» کہا ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: «أما بعد»  کا کلمہ حمد و صلاۃ کے بعد کہا جاتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کلمہ کا استعمال کرتے تھے، اس سے متعلق روایت تقریباً بارہ صحابہ سے مروی ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأدب / حدیث: 4973
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (2408),
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 3689)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/فضائل علي 4 (2408) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´خطبہ میں «أما بعد» کہنے کا بیان۔`
زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں خطبہ دیا تو «أما بعد» کہا ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4973]
فوائد ومسائل:
خطبے میں حمدوصلاۃ کے بعد اپنا موضوع شروع کرنے سے پہلے یہ کلمہ بولنا شروع ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4973 سے ماخوذ ہے۔