حدیث نمبر: 4972
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، قَالَ : قَالَ أَبُو مَسْعُودٍ لِأَبِي عَبْدِ اللَّهِ أَوْ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ لِأَبِي مَسْعُودٍ : " مَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : فِي زَعَمُوا , قال : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : "بِئْسَ مَطِيَّةُ الرَّجُلِ زَعَمُوا " , قال أبو داود : أَبُو عَبْدِ اللَّهِ : هَذَا حُذَيْفَةُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابومسعود رضی اللہ عنہ نے ابوعبداللہ ( حذیفہ ) رضی اللہ عنہ سے یا ابوعبداللہ نے ابومسعود سے کہا` تم نے «زعموا» کے سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا فرماتے سنا ؟ وہ بولے : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : «زعموا» ( لوگوں نے گمان کیا ) آدمی کی بہت بری سواری ہے ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: چونکہ «زعموا»  کا تعلق ایسے قول اور ایسی بات سے ہے جو غیر یقینی ہے، حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لفظ و اپنے مقصد کے لئے سواری بنانے اور اس کی آڑ لے کر کوئی ایسی بات کہنے سے منع کیا ہے جو غیر محقق ہو اور جو پایہ ثبوت کو نہ پہنچتی ہو۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأدب / حدیث: 4972
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح, مشكوة المصابيح (4777), أخرجه أحمد (5/401) وابن أبي شيبة (8/448، 449) وأبو نعيم في معرفة الصحابة (5/2949 ح6885) وللحديث شواھد
تخریج حدیث « تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 3364)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/119، 5/401) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´آدمی کا «زعموا» (لوگوں کا ایسا گمان ہے) کہنا کیسا ہے؟`
ابومسعود رضی اللہ عنہ نے ابوعبداللہ (حذیفہ) رضی اللہ عنہ سے یا ابوعبداللہ نے ابومسعود سے کہا تم نے «زعموا» کے سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا فرماتے سنا؟ وہ بولے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: «زعموا» (لوگوں نے گمان کیا) آدمی کی بہت بری سواری ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4972]
فوائد ومسائل:
لوگوں سے سنی سنائی بے اصل باتوں کو بلا تحقیق وتفتیش آگےنقل کر نا بہت براہے۔
کئی لوگ اپنے وہم شبہے یا جھوٹ کو لاگ لپیٹ سے آگے بڑھانے میں بڑے شاطرہوتے ہیں بالخصوص موجودہ لادینی صحافت کا تو یہ طرہ امتیاز ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4972 سے ماخوذ ہے۔