سنن ابي داود
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے احکام و مسائل
باب مَتَى يُؤْمَرُ الْغُلاَمُ بِالصَّلاَةِ باب: بچے کو نماز پڑھنے کا حکم کب دیا جائے؟
حدیث نمبر: 497
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ ، حَدَّثَنِي مُعَاذُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خُبَيْبٍ الْجُهَنِيُّ ، قَالَ : دَخَلْنَا عَلَيْهِ ، فَقَالَ لِامْرَأَتِه : مَتَى يُصَلِّي الصَّبِيُّ ؟ فَقَالَتْ : كَانَ رَجُلٌ مِنَّا يَذْكُرُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ ذَلِكَ ، فَقَالَ : " إِذَا عَرَفَ يَمِينَهُ مِنْ شِمَالِهِ ، فَمُرُوهُ بِالصَّلَاةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ہشام بن سعد کا بیان ہے کہ` مجھ سے معاذ بن عبداللہ بن خبیب جہنی نے بیان کیا ، ہشام کہتے ہیں : ہم معاذ کے پاس آئے تو انہوں نے اپنی بیوی سے پوچھا : بچے کب نماز پڑھنا شروع کریں ؟ تو انہوں نے کہا : ہم میں سے ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کر رہا تھا کہ اس کے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا : ” جب بچہ اپنے داہنے اور بائیں ہاتھ میں تمیز کرنے لگے تو تم اسے نماز کا حکم دو “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´بچے کو نماز پڑھنے کا حکم کب دیا جائے؟`
ہشام بن سعد کا بیان ہے کہ مجھ سے معاذ بن عبداللہ بن خبیب جہنی نے بیان کیا، ہشام کہتے ہیں: ہم معاذ کے پاس آئے تو انہوں نے اپنی بیوی سے پوچھا: بچے کب نماز پڑھنا شروع کریں؟ تو انہوں نے کہا: ہم میں سے ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کر رہا تھا کہ اس کے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: "جب بچہ اپنے داہنے اور بائیں ہاتھ میں تمیز کرنے لگے تو تم اسے نماز کا حکم دو۔" [سنن ابي داود/كتاب الصلاة /حدیث: 497]
ہشام بن سعد کا بیان ہے کہ مجھ سے معاذ بن عبداللہ بن خبیب جہنی نے بیان کیا، ہشام کہتے ہیں: ہم معاذ کے پاس آئے تو انہوں نے اپنی بیوی سے پوچھا: بچے کب نماز پڑھنا شروع کریں؟ تو انہوں نے کہا: ہم میں سے ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کر رہا تھا کہ اس کے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: "جب بچہ اپنے داہنے اور بائیں ہاتھ میں تمیز کرنے لگے تو تم اسے نماز کا حکم دو۔" [سنن ابي داود/كتاب الصلاة /حدیث: 497]
497۔ اردو حاشیہ:
سات سال کی عمر میں بچے کے شعور میں مناسب پختگی آ جاتی ہے۔ نماز کے معاملے میں اس پر اس سے پہلے ہی محنت شروع کر دینی چاہیے۔
سات سال کی عمر میں بچے کے شعور میں مناسب پختگی آ جاتی ہے۔ نماز کے معاملے میں اس پر اس سے پہلے ہی محنت شروع کر دینی چاہیے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 497 سے ماخوذ ہے۔