حدیث نمبر: 4964
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا . ح وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ , وَمُحَمَّدُ بْنُ مَحْبُوبٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ وَسَمَّاهُ ابْنُ مَحْبُوبٍ الْجَعْدَ , عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لَهُ : يَا بُنَيَّ " , قَالَ أبو داود : سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ مَعِينٍ يُثْنِي عَلَى مُحَمَّدِ بْنِ مَحْبُوبٍ ، وَيَقُولُ : كَثِيرُ الْحَدِيثِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : ” اے میرے بیٹے ! “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأدب / حدیث: 4964
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (2151)
تخریج حدیث « صحیح مسلم/الأدب 6 (2151)، سنن الترمذی/الأدب 62 (2831)، (تحفة الأشراف: 514)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/163) (صحیح) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 2151 | سنن ترمذي: 2831

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´دوسرے کے بیٹے کو اے میرے بیٹے کہنے کا بیان۔`
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: اے میرے بیٹے!۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4964]
فوائد ومسائل:
کسی اور کے بچے کو پیار سے بیٹے یا میرے بیٹے کہ کر پکارلینے میں کوئی حرج نہیں۔
سورۃ احزاب میں جو حکم ہے کہ انہیں ان کے باپوں سے پُکارو۔
یہ لے پالک بچوں کے متعلق ہے کہ ان کے اصل نسب کی شہرت ختم نہ کرو۔
ورنہ پیار سے اور مجازََا اس طرح کہنا جائز ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4964 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2151 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: ’’اے میرے بیٹے!‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:5623]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے، کسی دوسرے انسان کے لیے کم عمر بیٹے کو پیار و محبت اور شفقت و لطف کے لئے، اے میرے بیٹے (يا بنی، يا بنی)
اے میرے بچے (يا ولدی)
کہنا جائز ہے، جیسا کہ اپنے ہم عمر کو اس بنا پر (يا اخی)
کہنا درست ہے اور اپنے سے بڑی عمر کے شخص کو (يا عمی) (اے چچا)
کہنا صحیح ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2151 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 2831 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´کسی کو پیار و شفقت سے میرے بیٹے کہنے کا بیان۔`
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے «يا بني» اے میرے بیٹے کہہ کر پکارا ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الأدب/حدیث: 2831]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اس سے ثابت ہوا کہ اپنے بیٹے کے علاوہ بھی کسی بچے کو ’’اے میرے بیٹے!‘‘ کہا جا سکتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2831 سے ماخوذ ہے۔