سنن ابي داود
كتاب الأدب— کتاب: آداب و اخلاق کا بیان
باب فِي تَغْيِيرِ الاِسْمِ الْقَبِيحِ باب: برے نام کو بدل دینے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنْ عِشْتُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ أَنْهَى أُمَّتِي أَنْ يُسَمُّوا نَافِعًا ، وَأَفْلَحَ ، وَبَرَكَةَ " , قَالَ الْأَعْمَشُ : وَلَا أَدْرِي ذَكَرَ نَافِعًا أَمْ لَا ، فَإِنَّ الرَّجُلَ يَقُولُ : إِذَا جَاءَ أَثَمَّ بَرَكَةُ ؟ , فَيَقُولُونَ : لَا , قَالَ أبو داود : رَوَى أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، نَحْوَهُ لَمْ يَذْكُرْ بَرَكَةَ .
´جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر اللہ نے چاہا اور میں زندہ رہا تو میں اپنی امت کو نافع ، افلح اور برکت نام رکھنے سے منع کر دوں گا ، ( اعمش کہتے ہیں : مجھے نہیں معلوم انہوں ( سفیان ) نے نافع کا ذکر کیا یا نہیں ) اس لیے کہ آدمی جب آئے گا تو پوچھے گا : کیا برکت ہے ؟ تو لوگ کہیں گے : نہیں ، ( تو لوگ اسے بدفالی سمجھ کر اچھا نہ سمجھیں گے ) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ابوزبیر نے جابر سے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی ہے البتہ اس میں ” برکت “ کا ذکر نہیں ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اگر اللہ نے چاہا اور میں زندہ رہا تو میں اپنی امت کو نافع، افلح اور برکت نام رکھنے سے منع کر دوں گا، (اعمش کہتے ہیں: مجھے نہیں معلوم انہوں (سفیان) نے نافع کا ذکر کیا یا نہیں) اس لیے کہ آدمی جب آئے گا تو پوچھے گا: کیا برکت ہے؟ تو لوگ کہیں گے: نہیں، (تو لوگ اسے بدفالی سمجھ کر اچھا نہ سمجھیں گے)۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابوزبیر نے جابر سے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی ہے البتہ اس میں ” برکت “ کا ذکر نہیں ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4960]
مذکورہ بالا ناموں سے بالخصوس پرہیز کرنا چاہیے۔
اور صحیح مسلم میں ہے کہ آپ ﷺ بعد میں اس سے خاموش ہو رہے۔
(صحیح مسلم، الأدب، باب کراھة التسمية بالأسماء و بنافع نحوه، حديث: 2138)