حدیث نمبر: 496
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنِي دَاوُدُ بْنُ سَوَّارٍ الْمُزَنِيُّ ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ ، وَزَادَ : وَإِذَا زَوَّجَ أَحَدُكُمْ خَادِمَهُ عَبْدَهُ أَوْ أَجِيرَهُ ، فَلَا يَنْظُرْ إِلَى مَا دُونَ السُّرَّةِ وَفَوْقَ الرُّكْبَةِ ، قَالَ أَبُو دَاوُد : وَهِمَ وَكِيعٌ فِي اسْمِهِ ، وَرَوَى عَنْهُ أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ هَذَا الْحَدِيثَ ، فَقَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو حَمْزَةَ سَوَّارٌ الصَّيْرَفِيُّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´داود بن سوار مزنی سے اس سند سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے ، اس میں انہوں نے یہ اضافہ کیا ہے کہ` ” جب کوئی شخص اپنی لونڈی کی اپنے غلام یا مزدور سے شادی کر دے تو پھر وہ اس لونڈی کی ناف کے نیچے اور گھٹنوں کے اوپر نہ دیکھے “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : وکیع کو داود بن سوار کے نام میں وہم ہوا ہے ۔ ابوداود طیالسی نے بھی یہ حدیث انہیں سے روایت کی ہے اور اس میں «حدثنا أبو حمزة سوار الصيرفي» ہے ( یعنی ان کے نزدیک بھی صحیح سوار بن داود ہے ) ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الصلاة / حدیث: 496
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: صحيح, وأخرجه أحمد (2/180،182) وسنده حسن والحديث السابق (494) شاھد له
تخریج حدیث « انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 8717) (حسن) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´بچے کو نماز پڑھنے کا حکم کب دیا جائے؟`
داود بن سوار مزنی سے اس سند سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے، اس میں انہوں نے یہ اضافہ کیا ہے کہ جب کوئی شخص اپنی لونڈی کی اپنے غلام یا مزدور سے شادی کر دے تو پھر وہ اس لونڈی کی ناف کے نیچے اور گھٹنوں کے اوپر نہ دیکھے۔‏‏‏‏ ابوداؤد کہتے ہیں: وکیع کو داود بن سوار کے نام میں وہم ہوا ہے۔ ابوداود طیالسی نے بھی یہ حدیث انہیں سے روایت کی ہے اور اس میں «حدثنا أبو حمزة سوار الصيرفي» ہے (یعنی ان کے نزدیک بھی صحیح سوار بن داود ہے)۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة /حدیث: 496]
496۔ اردو حاشیہ:
بچوں کو بستروں میں اختلاط سے بچانے کا اہتمام کرنے کے علاوہ بڑوں کو بھی صنفی معاملات میں انتہائی محتاط رویہ اپنانا چاہیے۔ لونڈی بلاشبہ اپنی زرخرید اور ملکیت ہے مگر جب اس کی عصمت عقد شرعی سے دوسرے کے حوالے کر دی تو اب مالک کو بھی اس کی طرف ایسی نظر اٹھانی منع ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 496 سے ماخوذ ہے۔