حدیث نمبر: 4957
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَقِيلٍ ، حَدَّثَنَا مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ : " لَقِيتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَقَالَ : مَنْ أَنْتَ ؟ , قُلْتُ : مَسْرُوقُ بْنُ الْأَجْدَعِ , فَقَالَ عُمَرُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ :الْأَجْدُعُ شَيْطَانٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´مسروق کہتے ہیں کہ` میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ملا تو انہوں نے پوچھا : تم کون ہو ؟ میں نے کہا : مسروق بن اجدع ، تو آپ نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” اجدع تو شیطان ہے “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأدب / حدیث: 4957
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ابن ماجه (3731), مجالد ضعيف, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 173
تخریج حدیث « سنن ابن ماجہ/الأدب 31 (3731)، (تحفة الأشراف: 10641)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/31) (ضعیف) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابن ماجه: 3731

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 3731 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´ناپسندیدہ اور برے ناموں کا بیان۔`
مسروق کہتے ہیں کہ میری ملاقات عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ہوئی، تو انہوں نے پوچھا: تم کون ہو؟ میں نے عرض کیا: میں مسروق بن اجدع ہوں، (یہ سن کر) عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ " اجدع ایک شیطان ہے۔‏‏‏‏" [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3731]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(أجدع)
کے لفظی معنی ’’نکٹا‘‘ ہیں۔
اور ناک کٹنا اردو کی طرح عربی میں بھی بے عزتی کے مفہوم میں بولا جاتا ہے جب کے دوسرے اعضائے سے محرومی (مثلاً: اعرج، لنگڑا)
میں یہ قباحت نہیں، اس لیے ایسے نام سے اجتناب ہی بہتر ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3731 سے ماخوذ ہے۔