سنن ابي داود
كتاب الأدب— کتاب: آداب و اخلاق کا بیان
باب فِي الرَّحْمَةِ باب: رحمت و شفقت اور مہربانی کا بیان۔
حدیث نمبر: 4943
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , وَابْنُ السَّرْحِ , قَالَا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ ابْنِ عَامِرٍ ، عَنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو يَرْوِيهِ ،قال ابْنُ السَّرْحِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ لَمْ يَرْحَمْ صَغِيرَنَا ، وَيَعْرِفْ حَقَّ كَبِيرِنَا ، فَلَيْسَ مِنَّا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو ہمارے چھوٹے پر رحم نہ کھائے اور ہمارے بڑے کا حق نہ پہنچانے ( اس کا ادب و احترام نہ کرے ) تو وہ ہم میں سے نہیں “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: مسند الحميدي / حدیث: 597 کی شرح از محمد ابراہیم بن بشیر ✍️
597-سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جو شخص ہمارے چھوٹوں پر رحم نہیں کرتا اور ہمارے بڑوں کے حق کو پہچانتا نہیں ہے اس کا ہم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔“ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:597]
فائدہ:
اس حدیث میں چھوٹوں پر شفقت، بڑوں کے احترام اور ان کے حقوق پورے کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔ ” کبیر“ سے عمر یا علم کے لحاظ سے بڑا شخص مراد ہے۔ بعض احادیث میں علماء کا بھی ذکر ہے۔
اس حدیث میں چھوٹوں پر شفقت، بڑوں کے احترام اور ان کے حقوق پورے کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔ ” کبیر“ سے عمر یا علم کے لحاظ سے بڑا شخص مراد ہے۔ بعض احادیث میں علماء کا بھی ذکر ہے۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 597 سے ماخوذ ہے۔