حدیث نمبر: 4942
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، قال حَدَّثَنَا . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ كَثِيرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : كَتَبَ إِلَيَّ مَنْصُورٌ ، قال ابْنُ كَثِيرٍ فِي حَدِيثِهِ ، وَقَرَأْتُهُ عَلَيْهِ وَقُلْتُ : أَقُولُ حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ ، فَقَالَ : إِذَا قَرَأْتَهُ عَلَيَّ فَقَدْ حَدَّثْتُكَ بِهِ ، ثُمَّ اتَّفَقَا ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ مَوْلَى الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ الصَّادِقَ الْمَصْدُوقَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَاحِبَ هَذِهِ الْحُجْرَةِ , يَقُولُ : " لَا تُنْزَعُ الرَّحْمَةُ إِلَّا مِنْ شَقِيٍّ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے صادق و مصدوق ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کو جو اس کمرے میں رہتے تھے ۱؎ فرماتے سنا ہے : ” رحمت ( مہربانی و شفقت ) صرف بدبخت ہی سے چھینی جاتی ہے ۲؎ “ ۔

وضاحت:
۱؎: اشارہ ہے عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ کی جانب جس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رہتے تھے۔
۲؎: یعنی بدبخت اپنی سخت دلی کے باعث دوسروں پر شفقت و مہربانی نہیں کرتا جب کہ نیک بخت کا حال اس کے برعکس ہوتا ہے یعنی وہ بے رحم نہیں ہوتا۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأدب / حدیث: 4942
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, أخرجه الترمذي (1923 وسنده حسن)
تخریج حدیث « سنن الترمذی/البر والصلة 16 (1923)، (تحفة الأشراف: 13391)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/301، 442، 461، 539) (حسن) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 1923

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´رحمت و شفقت اور مہربانی کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے صادق و مصدوق ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کو جو اس کمرے میں رہتے تھے ۱؎ فرماتے سنا ہے: رحمت (مہربانی و شفقت) صرف بدبخت ہی سے چھینی جاتی ہے ۲؎۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4942]
فوائد ومسائل:
1) رسول اللہ ﷺ کا وصف صادق و مصدوق یوں ہے کہ آپؐ اپنے قول و فعل اور خبر میں صادق (سچے) تھے۔
اور اللہ اس کے فرشتوں اور مومنین نے آپ ﷺ کے نبی ورسول ہونے کی تصدیق کی ہے تو اس اعتبار سے آپ مصدوق ہوئے۔

2) آپﷺ کے رحم کا دائرہ، اپنے، پرائے، چھوٹے، بڑے زیر دست، ملازمین اور حیوانوں تک کو وسیع ہے۔
صاحبِ ایمان کو کسی بھی موقع پر کسی کے ساتھ ظلم کا معاملہ نہیں کرنا چاہیئے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4942 سے ماخوذ ہے۔