حدیث نمبر: 4940
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا يَتْبَعُ حَمَامَةً ، فَقَالَ : شَيْطَانٌ يَتْبَعُ شَيْطَانَةً " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ کبوتری کا ( اپنی نظروں سے ) پیچھا کر رہا ہے ( یعنی اڑا رہا ہے ) تو آپ نے فرمایا : ” ایک شیطان ایک شیطانہ کا پیچھا کر رہا ہے ۱؎ “ ۔

وضاحت:
۱؎: یعنی دونوں شیطان ہیں، کبوتر اڑانے والا اس لئے شیطان ہے کہ وہ اللہ سے غافل اور بے پرواہ ہے، اور کبوتر اس لئے شیطان ہے کہ وہ اڑانے والے کی غفلت کا سبب بنا ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأدب / حدیث: 4940
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, مشكوة المصابيح (4506), أخرجه ابن ماجه (3765 وسنده حسن)
تخریج حدیث « سنن ابن ماجہ/الأدب 44 (3765)، (تحفة الأشراف: 15012)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/345) (حسن صحیح) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابن ماجه: 3765

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´کبوتر بازی کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ کبوتری کا (اپنی نظروں سے) پیچھا کر رہا ہے (یعنی اڑا رہا ہے) تو آپ نے فرمایا: ایک شیطان ایک شیطانہ کا پیچھا کر رہا ہے ۱؎۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4940]
فوائد ومسائل:
کبوتر بازی، بٹیر بازی، مرغ لڑانا وغیرہ سب ناجائز مشاغل ہیں، ہاں اگر بطور تجارت یا زینت گھر میں رکھے ہوں تو جائز ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4940 سے ماخوذ ہے۔