حدیث نمبر: 4938
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ لَعِبَ بِالنَّرْدِ فَقَدْ عَصَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے چوسر کھیلا اس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأدب / حدیث: 4938
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ابن ماجه (3762), سعيد بن أبي هند ثقة،, أرسل عن أبي موسي (تق : 2490) وحديث مسلم (2260) يغني عنه, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 172
تخریج حدیث « سنن ابن ماجہ/الأدب 43 (3762)، موطا امام مالک/الرؤیا 2 (6)، (تحفة الأشراف: 8997)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/394، 397، 400) (حسن) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابن ماجه: 3762

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´چوسر کھیلنے کی ممانعت کا بیان۔`
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے چوسر کھیلا اس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4938]
فوائد ومسائل:
1) (نرد) کا ترجمہ (لُعُبة الطاو لة) کیا گیا ہے، یعنی لکڑی کے تختے پر کھیل جس سے چوسر، کیرم بورڈ، اور لڈو وغیرہ کی قسم کے کھیل مراد ہو سکتے ہیں۔

2) ہمارے فاضل محقق مذکورہ روایت کی تحقیق کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ یہ روایت سندََا ضعیف ہے، لیکن صحیح مسلم کی حدیث نمبر 12260 اس روایت سے کفایت کرتی ہے، لہذا معلوم ہوا کہ یہ روایت معناََ قابلِ حجت ہے، نیز شیخ البانی ؒ نے بھی مذکورہ بالا روایت کو حسن قرار دیا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4938 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 3762 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´نرد (چوسر) کھیلنے کا بیان۔`
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے «نرد» (چوسر) کھیلا، اس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3762]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
 
(1)
ہمارے فاضل محقق نے مذکورہ روایت کو سنداً ضعیف قرار دیا ہے اور مزید لکھا ہے کہ صحیح مسلم کی روایت اس سے کفالت کرتی ہے۔
علاوہ ازیں آئندہ آنے والی روایت سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے، نیز دیگر محققین نے بھی اسے حسن قرار دیا ہے، لہٰذا مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہونے کے باوجود دیگر شواہد کی بنا پر قابل حجت اور قابل عمل ہے۔
واللہ أعلم۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3762 سے ماخوذ ہے۔