حدیث نمبر: 4934
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ ،حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ مِثْلَهُ ، قَالَ : عَلَى خَيْرِ طَائِرٍ ، فَسَلَّمَتْنِي إِلَيْهِنَّ ، فَغَسَلْنَ رَأْسِي وَأَصْلَحْنَنِي فَلَمْ يَرُعْنِي إِلَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضُحًى ، فَأَسْلَمْنَنِي إِلَيْهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابواسامہ سے اسی کے ہم مثل مروی ہے` اس میں ہے ( ان عورتوں نے کہا ) اچھا نصیبہ ہے پھر میری ماں نے مجھے ان عورتوں کے سپرد کر دیا ، انہوں نے میرا سر دھویا اور مجھے سجایا سنوارا ( میں جان نہیں پا رہی تھی کہ یہ سب کیا اور کیوں ہو رہا ہے ) کہ چاشت کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہی آ کر مجھے حیرانی میں ڈال دیا تو ان عورتوں نے مجھے آپ کے حوالہ کر دیا ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأدب / حدیث: 4934
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح, انظر الحديث السابق (4933)
تخریج حدیث « انظر حدیث رقم : (2121)، (تحفة الأشراف: 16855) (صحیح) »