حدیث نمبر: 4927
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَلَّامُ بْنُ مِسْكِينٍ ، عَنْ شَيْخٍ شَهِدَ أَبَا وَائِلٍ فِي وَلِيمَةٍ فَجَعَلُوا يَلْعَبُونَ يَتَلَعَّبُونَ يُغَنُّونَ ، فَحَلَّ أَبُو وَائِلٍ حَبْوَتَهُ ، وَقَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " الْغِنَاءُ يُنْبِتُ النِّفَاقَ فِي الْقَلْبِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´سلام بن مسکین ایک شیخ سے روایت کرتے ہیں` جو ابووائل کے ساتھ ایک ولیمہ میں موجود تھے تو لوگ کھیل کود اور گانے بجانے میں لگے گئے ، تو ابووائل نے اپنا حبوہ ۱؎ کھولا اور بولے : میں نے عبداللہ بن مسعود کو کہتے سنا ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے : گانا بجانا دل میں نفاق پیدا کرتا ہے ۔

وضاحت:
۱؎: بیٹھنے کی ایک مخصوص ہیئت کا نام ہے جس میں آدمی سرین کے بل پاؤں کھڑا کر کے بیٹھتا اور دونوں ہاتھوں سے اپنے گھٹنے باندھ لیتا ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأدب / حدیث: 4927
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, شيخ سلام بن مسكين : مجهول،لم أجد من وثقه, والحديث ضعفه البيهقي في شعب الإيمان (5099), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 172
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 9315) (ضعیف) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : مشكوة المصابيح: 4810

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´گانے بجانے کی کراہت کا بیان۔`
سلام بن مسکین ایک شیخ سے روایت کرتے ہیں جو ابووائل کے ساتھ ایک ولیمہ میں موجود تھے تو لوگ کھیل کود اور گانے بجانے میں لگے گئے، تو ابووائل نے اپنا حبوہ ۱؎ کھولا اور بولے: میں نے عبداللہ بن مسعود کو کہتے سنا ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: گانا بجانا دل میں نفاق پیدا کرتا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4927]
فوائد ومسائل:
یہ روایت مرفو عاَ صحیح نہیں ہے۔
البتہ حضرت عبدُاللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول (موقوف) صحیح ہے۔
اُنھوں نے کہا: گانا دل میں نفاق پیدا کرتا ہے، جیسے پانی کھیتی کو اُگاتا ہے۔
(فوائد إمام ابن القیمؒ۔
إغاثة اللھفان)
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4927 سے ماخوذ ہے۔