سنن ابي داود
كتاب الأدب— کتاب: آداب و اخلاق کا بیان
باب فِي النَّهْىِ عَنِ الْغِنَاءِ باب: گانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4923
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ لَعِبَتْ الْحَبَشَةُ لَقُدُومِهِ فَرَحًا بِذَلِكَ لَعِبُوا بِحِرَابِهِمْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینے آئے تو حبشی آپ کی آمد پر خوش ہو کر خوب کھیلے اور اپنی برچھیاں لے کر کھیلے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´گانے کا بیان۔`
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینے آئے تو حبشی آپ کی آمد پر خوش ہو کر خوب کھیلے اور اپنی برچھیاں لے کر کھیلے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4923]
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینے آئے تو حبشی آپ کی آمد پر خوش ہو کر خوب کھیلے اور اپنی برچھیاں لے کر کھیلے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4923]
فوائد ومسائل:
عید یا دیگر شادمانی کے مواقع پر جنگی کرتبوں وغیرہ کا اظہار کرنا اور اشعار پڑھنا جائز ہے بشرطیکہ کہ شرعی حدود میں ہوں۔
عید یا دیگر شادمانی کے مواقع پر جنگی کرتبوں وغیرہ کا اظہار کرنا اور اشعار پڑھنا جائز ہے بشرطیکہ کہ شرعی حدود میں ہوں۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4923 سے ماخوذ ہے۔