سنن ابي داود
كتاب الأدب— کتاب: آداب و اخلاق کا بیان
باب فِي النَّصِيحَةِ وَالْحِيَاطَةِ باب: خلوص و خیر خواہی کا بیان۔
حدیث نمبر: 4918
حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمُؤَذِّنُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ رَبَاحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْمُؤْمِنُ مِرْآةُ الْمُؤْمِنِ وَالْمُؤْمِنُ أَخُو الْمُؤْمِنِ يَكُفُّ عَلَيْهِ ضَيْعَتَهُ وَيَحُوطُهُ مِنْ وَرَائِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مومن مومن کا آئینہ ہے ، اور مومن مومن کا بھائی ہے ، وہ اس کی جائیداد کی نگرانی کرتا اور اس کی غیر موجودگی میں اس کی حفاظت کرتا ہے “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´خلوص و خیر خواہی کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” مومن مومن کا آئینہ ہے، اور مومن مومن کا بھائی ہے، وہ اس کی جائیداد کی نگرانی کرتا اور اس کی غیر موجودگی میں اس کی حفاظت کرتا ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4918]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” مومن مومن کا آئینہ ہے، اور مومن مومن کا بھائی ہے، وہ اس کی جائیداد کی نگرانی کرتا اور اس کی غیر موجودگی میں اس کی حفاظت کرتا ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4918]
فوائد ومسائل:
مسلمان بھائی کے عیوب کی تشہیر کرنا جائز نہیں، البتہ خا موشی کے ساتھ مناسب انداز میں فہمائش ضرور کر دے تاکہ وہ اپنی اصلاح کر لے۔
نیز اس کی حاضری یا غیر حاضری میں ہر طرح سے اس کی خیر خواہی کرنا واجب ہے۔
مسلمان بھائی کے عیوب کی تشہیر کرنا جائز نہیں، البتہ خا موشی کے ساتھ مناسب انداز میں فہمائش ضرور کر دے تاکہ وہ اپنی اصلاح کر لے۔
نیز اس کی حاضری یا غیر حاضری میں ہر طرح سے اس کی خیر خواہی کرنا واجب ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4918 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: بلوغ المرام / حدیث: 1329 کی شرح از الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری ✍️
´مکارم اخلاق (اچھے عمدہ اخلاق) کی ترغیب کا بیان`
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’ مومن اپنے مومن بھائی کا آئینہ ہے۔ “ اس کو ابوداؤد نے روایت کیا ہے، اس کی سند حسن ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 1329»
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’ مومن اپنے مومن بھائی کا آئینہ ہے۔ “ اس کو ابوداؤد نے روایت کیا ہے، اس کی سند حسن ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 1329»
تخریج:
«أخرجه أبوداود، الأدب، باب في النصيحة والحياطة، حديث:4918.»
تشریح: 1. مطلب یہ ہے کہ آئینہ جس طرح اپنے دیکھنے والے کے محاسن اور نقائص بلا کم و کاست اس کے سامنے رکھ دیتا ہے‘ اسی طرح ایک مومن اپنے دوسرے مومن بھائی کے لیے آئینے کا کام دیتا ہے‘ چنانچہ وہ اپنے بھائی کو عیوب اور نقائص پر متنبہ کر کے اسے خبردار کر دیتا ہے کہ اپنی اصلاح کر لے۔
2. یہ کام آئینہ صرف اپنے دیکھنے والے ہی کو بتاتا ہے‘ دوسرے کے روبرو چغلی نہیں کھاتا۔
3.آئینہ اتنا عیب و نقص ہی بتاتا ہے جتنا دیکھنے والے کے چہرے مہرے میں ہوتا ہے‘ اس میں اپنی جانب سے کمی بیشی نہیں کرتا اور اس کے سامنے بیان کرتا ہے‘ اس کی عدم موجودگی اور پیٹھ پیچھے ذکر نہیں کرتا۔
اسی طرح ایک مومن کو اپنے مومن بھائی کے سامنے اس کے عیوب بیان کرنے چاہئیں‘ اس کی عدم موجودگی میں نہیں اور اتنے عیوب ہی بیان کرنے چاہئیں جتنے حقیقت میں اس میں پائے جاتے ہوں‘ اس میں اپنی جانب سے کمی بیشی نہیں کرنی چاہیے۔
4.آئینہ ٹکڑے ٹکڑے ہو کر بھی اپنے دیکھنے والے کے عیوب ہر ٹکڑے میں وہی دکھاتا ہے جو اس میں پائے جاتے ہیں‘ اسی طرح مومن کو اپنے بھائی سے ناراض ہو کر بھی اتنے ہی عیوب بیان کرنے چاہئیں جتنے فی الواقع اس میں پائے جاتے ہوں۔
5.آئینہ ٹوٹ کر اپنی اصلیت کھو نہیں دیتا‘ اسی طرح مومن کو اپنی اصلیت نہیں کھونی چاہیے۔
اور دوسرے مومن کو چاہیے کہ اپنے عیوب پر تنبیہ کو اپنے لیے سچی خیر خواہی اور حقیقی ہمدردی سمجھے۔
«أخرجه أبوداود، الأدب، باب في النصيحة والحياطة، حديث:4918.»
تشریح: 1. مطلب یہ ہے کہ آئینہ جس طرح اپنے دیکھنے والے کے محاسن اور نقائص بلا کم و کاست اس کے سامنے رکھ دیتا ہے‘ اسی طرح ایک مومن اپنے دوسرے مومن بھائی کے لیے آئینے کا کام دیتا ہے‘ چنانچہ وہ اپنے بھائی کو عیوب اور نقائص پر متنبہ کر کے اسے خبردار کر دیتا ہے کہ اپنی اصلاح کر لے۔
2. یہ کام آئینہ صرف اپنے دیکھنے والے ہی کو بتاتا ہے‘ دوسرے کے روبرو چغلی نہیں کھاتا۔
3.آئینہ اتنا عیب و نقص ہی بتاتا ہے جتنا دیکھنے والے کے چہرے مہرے میں ہوتا ہے‘ اس میں اپنی جانب سے کمی بیشی نہیں کرتا اور اس کے سامنے بیان کرتا ہے‘ اس کی عدم موجودگی اور پیٹھ پیچھے ذکر نہیں کرتا۔
اسی طرح ایک مومن کو اپنے مومن بھائی کے سامنے اس کے عیوب بیان کرنے چاہئیں‘ اس کی عدم موجودگی میں نہیں اور اتنے عیوب ہی بیان کرنے چاہئیں جتنے حقیقت میں اس میں پائے جاتے ہوں‘ اس میں اپنی جانب سے کمی بیشی نہیں کرنی چاہیے۔
4.آئینہ ٹکڑے ٹکڑے ہو کر بھی اپنے دیکھنے والے کے عیوب ہر ٹکڑے میں وہی دکھاتا ہے جو اس میں پائے جاتے ہیں‘ اسی طرح مومن کو اپنے بھائی سے ناراض ہو کر بھی اتنے ہی عیوب بیان کرنے چاہئیں جتنے فی الواقع اس میں پائے جاتے ہوں۔
5.آئینہ ٹوٹ کر اپنی اصلیت کھو نہیں دیتا‘ اسی طرح مومن کو اپنی اصلیت نہیں کھونی چاہیے۔
اور دوسرے مومن کو چاہیے کہ اپنے عیوب پر تنبیہ کو اپنے لیے سچی خیر خواہی اور حقیقی ہمدردی سمجھے۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 1329 سے ماخوذ ہے۔