حدیث نمبر: 4912
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ , وَأَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ السَّرْخَسِيُّ ، أَنَّ أَبَا عَامِرٍ أَخْبَرَهُمْ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ هِلَالٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا يَحِلُّ لِمُؤْمِنٍ أَنْ يَهْجُرَ مُؤْمِنًا فَوْقَ ثَلَاثٍ فَإِنْ مَرَّتْ بِهِ ثَلَاثٌ فَلْيَلْقَهُ فَلْيُسَلِّمْ عَلَيْهِ فَإِنْ رَدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ فَقَدِ اشْتَرَكَا فِي الْأَجْرِ وَإِنْ لَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ فَقَدْ بَاءَ بِالْإِثْمِ " زَادَ أَحْمَدُ وَخَرَجَ الْمُسَلِّمُ مِنَ الْهِجْرَةِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کسی مومن کے لیے درست نہیں کہ وہ کسی مومن کو تین دن سے زیادہ چھوڑے رکھے ، اگر اس پر تین دن گزر جائیں تو وہ اس سے ملے اور اس کو سلام کرے ، اب اگر وہ سلام کا جواب دیتا ہے ، تو وہ دونوں اجر میں شریک ہیں اور اگر وہ جواب نہیں دیتا تو وہ گنہگار ہوا ، اور سلام کرنے والا قطع تعلق کے گناہ سے نکل گیا “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأدب / حدیث: 4912
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ھلال مستور, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 171
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 14803)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/البر والصلة 8 (2561)، مسند احمد (2/392، 456) (ضعیف) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 2562 | سنن ابي داود: 4914 | معجم صغير للطبراني: 1159