سنن ابي داود
كتاب الأدب— کتاب: آداب و اخلاق کا بیان
باب فِيمَنْ دَعَا عَلَى مَنْ ظَلَمَ باب: ظالم کو بددعا دینا کیسا ہے؟
حدیث نمبر: 4909
حَدَّثَنَا ابْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ حَبِيبٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : " سُرِقَ لَهَا شَيْءٌ فَجَعَلَتْ تَدْعُو عَلَيْهِ ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا تُسَبِّخِي عَنْهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` ان کی کوئی چیز چوری ہو گئی ، تو وہ اس پر بد دعا کرنے لگیں ، تو ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس ( چور ) سے عذاب کو ہلکا نہ کر “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 1497 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´دعا کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ان کا ایک لحاف چرا لیا گیا تو وہ اس کے چور پر بد دعا کرنے لگیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے: ” تم اس کے گناہ میں کمی نہ کرو۔“ ابوداؤد کہتے ہیں: «لا تسبخي» کا مطلب ہے «لا تخففي عنه» یعنی اس کے گناہ میں تخفیف نہ کرو۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1497]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ان کا ایک لحاف چرا لیا گیا تو وہ اس کے چور پر بد دعا کرنے لگیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے: ” تم اس کے گناہ میں کمی نہ کرو۔“ ابوداؤد کہتے ہیں: «لا تسبخي» کا مطلب ہے «لا تخففي عنه» یعنی اس کے گناہ میں تخفیف نہ کرو۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1497]
1497. اردو حاشیہ: یہ روایت سندا ضعیف ہے۔ اس لئے اس سے وہ مسئلہ ثابت نہیں ہوتا۔ جو اس میں بیان کیا گیا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1497 سے ماخوذ ہے۔