حدیث نمبر: 4909
حَدَّثَنَا ابْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ حَبِيبٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : " سُرِقَ لَهَا شَيْءٌ فَجَعَلَتْ تَدْعُو عَلَيْهِ ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا تُسَبِّخِي عَنْهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` ان کی کوئی چیز چوری ہو گئی ، تو وہ اس پر بد دعا کرنے لگیں ، تو ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس ( چور ) سے عذاب کو ہلکا نہ کر “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأدب / حدیث: 4909
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, وانظر الحديث السابق(1497), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 171
تخریج حدیث « تفرد بہ أبوداود، مسند احمد (6/45، 136)، (تحفة الأشراف: 17377) (ضعیف) » نوٹ: یہی حدیث 1497 میں گزری ہے اس پر حسن کا حکم ہے
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 1497

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 1497 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´دعا کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ان کا ایک لحاف چرا لیا گیا تو وہ اس کے چور پر بد دعا کرنے لگیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے: تم اس کے گناہ میں کمی نہ کرو۔‏‏‏‏ ابوداؤد کہتے ہیں: «لا تسبخي» کا مطلب ہے «لا تخففي عنه» یعنی اس کے گناہ میں تخفیف نہ کرو۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1497]
1497. اردو حاشیہ: یہ روایت سندا ضعیف ہے۔ اس لئے اس سے وہ مسئلہ ثابت نہیں ہوتا۔ جو اس میں بیان کیا گیا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1497 سے ماخوذ ہے۔