حدیث نمبر: 4907
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَبِي الزَّرْقَاءِ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ , وَزَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، أَنَّ أُمَّ الدَّرْدَاءِ ، قَالَتْ : سَمِعْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَا يَكُونُ اللَّعَّانُونَ شُفَعَاءَ وَلَا شُهَدَاءَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ام الدرداء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` میں نے ابوالدرداء کو سنا وہ کہہ رہے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” لعنت کرنے والے نہ سفارشی ہو سکتے ہیں اور نہ گواہ ۱؎ “ ۔

وضاحت:
۱؎: مطلب یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے فرد نہیں ہو سکتے، کیونکہ آپ کی امت قیامت کے روز دوسری امتوں پر سفارشی اور گواہ ہو گی۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأدب / حدیث: 4907
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (2598)
تخریج حدیث « صحیح مسلم/البروالصلة 24 (2598)، (تحفة الأشراف: 10980)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/448) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´لعنت کرنے کا بیان۔`
ام الدرداء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے ابوالدرداء کو سنا وہ کہہ رہے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: لعنت کرنے والے نہ سفارشی ہو سکتے ہیں اور نہ گواہ ۱؎۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4907]
فوائد ومسائل:
یہ کس قدر بڑی محرومی ہے کہ کسی بندے کو اس فضیلت سے محروم کر دیا جائے۔
حالانکہ اہلِ ایمان اپنے عزیزوں اور دوسروں کی سفارش کر سکیں گے اور ان کے لیے گواہ بھی بنیں گے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4907 سے ماخوذ ہے۔