حدیث نمبر: 4902
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ عُيَيْنَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ ذَنْبٍ أَجْدَرُ أَنْ يُعَجِّلَ اللَّهُ تَعَالَى لِصَاحِبِهِ الْعُقُوبَةَ فِي الدُّنْيَا مَعَ مَا يَدَّخِرُ لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِثْلُ الْبَغْيِ وَقَطِيعَةِ الرَّحِمِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ظلم و بغاوت اور قطع رحمی ( رشتہ ناتا توڑنے ) جیسا کوئی اور گناہ نہیں ہے ، جو اس لائق ہو کہ اللہ تعالیٰ اس کے مرتکب کو اسی دنیا میں سزا دے باوجود اس کے کہ اس کی سزا اس نے آخرت میں رکھ چھوڑی ہو ۱؎ “ ۔

وضاحت:
۱؎: «بغی» سے مراد باغی کا ظلم یا سلطان کے خلاف بغاوت یا کبر و غرور ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأدب / حدیث: 4902
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح, مشكوة المصابيح (4932), أخرجه الترمذي (2511 وسنده صحيح) وابن ماجه (4211 وسنده صحيح)
تخریج حدیث « سنن الترمذی/صفة القیامة 57 (1511)، سنن ابن ماجہ/الزہد 23 (4211)، (تحفة الأشراف: 11693)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/38) (صحیح) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 2511 | سنن ابن ماجه: 4211

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´ظلم و زیادتی اور بغاوت منع ہے۔`
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ظلم و بغاوت اور قطع رحمی (رشتہ ناتا توڑنے) جیسا کوئی اور گناہ نہیں ہے، جو اس لائق ہو کہ اللہ تعالیٰ اس کے مرتکب کو اسی دنیا میں سزا دے باوجود اس کے کہ اس کی سزا اس نے آخرت میں رکھ چھوڑی ہو ۱؎۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4902]
فوائد ومسائل:
مطلب یہ ہے کہ بغی و عدوان (ظلم و ذیادتی) اور قطع رحمی یہ دو جرم ایسے ہیں کہ اللہ تعالی اخروی سزا کے علاوہ دنیا میں بھی عام طور پر جلد ہی ان کی سزا دے دیتا ہے۔
اس لیے قطع رحمی سے بچنا چاہیے اور ظلم و عدوان سے بھی۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4902 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 4211 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´بغاوت و سرکشی کا بیان۔`
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی گناہ ایسا نہیں ہے جس کے کرنے پر آخرت کے عذاب کے ساتھ جو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے تیار کر رکھا ہے دنیا میں بھی سزا دینی زیادہ لائق ہو سوائے بغاوت اور قطع رحمی کے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4211]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
ظلم و زیادتی مسے پرہیز کرنا انتہائی ضروری ہے کیونکہ اسلام کی اہم خوبی عدل اور رحم ہے۔

(2)
ظلم اور رشتہ داروں سے بدسلوکی کی سزا دنیا میں بھی ملتی ہے اورآخرت میں بھی، خواہ ظلم کسی انسان پر کیا جائے یا کسی حیوان پر۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4211 سے ماخوذ ہے۔