سنن ابي داود
كتاب الأدب— کتاب: آداب و اخلاق کا بیان
باب فِي النَّهْىِ عَنْ سَبِّ الْمَوْتَى باب: مردوں کو برا بھلا کہنا منع ہے۔
حدیث نمبر: 4900
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، أَخْبَرَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَنَسٍ الْمَكِّيِّ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اذْكُرُوا مَحَاسِنَ مَوْتَاكُمْ وَكُفُّوا عَنْ مَسَاوِيهِمْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم اپنے مردوں کی خوبیاں بیان کرو اور ان کی برائیاں بیان کرنے سے باز رہو ۱؎ “ ۔
وضاحت:
۱؎: مرے ہوئے کافروں اور فاسقوں کی برائیوں کا ذکر اگر اس لیے کیا جائے تاکہ لوگ اس سے بچیں اور عبرت حاصل کریں تو جائز ہے، اسی طرح سے ضعیف اور مجروح رواۃ حدیث پر جرح و تنفید بھی باتفاق علماء جائز ہے، خواہ وہ مردہ ہو یا زندہ، اس لیے کہ اس کا مقصد عقیدہ، علم، اور حدیث کی خدمت و حفاظت ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´مردوں کو برا بھلا کہنا منع ہے۔`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تم اپنے مردوں کی خوبیاں بیان کرو اور ان کی برائیاں بیان کرنے سے باز رہو ۱؎۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4900]
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تم اپنے مردوں کی خوبیاں بیان کرو اور ان کی برائیاں بیان کرنے سے باز رہو ۱؎۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4900]
فوائد ومسائل:
مرنے والا اپنے کیے ہوئے اعمال کی جزا وسزا پانے کے لیے اگلے جہا ں جا چکا ہے، اب اس کا برا تذکرہ اس کے وارثوں کے لیئے اذیت کے علاوہ تمھارے آپس کے درمیان بغض کا باعث بنے گا۔
ہاں شرعی ضرورت کے تحت کسی کا کفرشرک بدعت واضح کرنا ضروری ہو تو بیان کیا جائے تا کہ لوگ متنبہ رہیں، جیسے بعض لوگ فاسد عقیدے کی اشاعت کا باعث بنے ہوں یا روایتِ حدیث میں ضعیف رہے ہوں تو ان کا تذکرہ دین کا حصہ ہے نہ کہ کوئی ذاتی غرض۔
مرنے والا اپنے کیے ہوئے اعمال کی جزا وسزا پانے کے لیے اگلے جہا ں جا چکا ہے، اب اس کا برا تذکرہ اس کے وارثوں کے لیئے اذیت کے علاوہ تمھارے آپس کے درمیان بغض کا باعث بنے گا۔
ہاں شرعی ضرورت کے تحت کسی کا کفرشرک بدعت واضح کرنا ضروری ہو تو بیان کیا جائے تا کہ لوگ متنبہ رہیں، جیسے بعض لوگ فاسد عقیدے کی اشاعت کا باعث بنے ہوں یا روایتِ حدیث میں ضعیف رہے ہوں تو ان کا تذکرہ دین کا حصہ ہے نہ کہ کوئی ذاتی غرض۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4900 سے ماخوذ ہے۔