حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي . ح وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ ، أخبرنا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ , الْمَعْنَى وَاحِدٌ ، أخبرنا ابْنُ عَوْنٍ ، قَالَ : كُنْتُ أَسْأَلُ عَنِ الِانْتِصَارِ وَلَمَنِ انْتَصَرَ بَعْدَ ظُلْمِهِ فَأُولَئِكَ مَا عَلَيْهِمْ مِنْ سَبِيلٍ سورة الشورى آية 41 , فَحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ ، عَنْ أُمِّ مُحَمَّدٍ امْرَأَةِ أَبِيهِ ، قَالَ ابْنُ عَوْنٍ : وَزَعَمُوا أَنَّهَا كَانَتْ تَدْخُلُ عَلَى أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ ، قَالَتْ : قَالَتْ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ : " دَخَلَ عَلَيَّ ّرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَنَا زَيْنَبُ بِنْتُ جَحْشٍ ، فَجَعَلَ يَصْنَعُ شَيْئًا بِيَدِهِ ، فَقُلْتُ : بِيَدِهِ حَتَّى فَطَّنْتُهُ لَهَا ، فَأَمْسَكَ وَأَقْبَلَتْ زَيْنَبُ تَقَحَّمُ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، فَنَهَاهَا فَأَبَتْ أَنْ تَنْتَهِيَ ، فَقَالَ لِعَائِشَةَ : سُبِّيهَا فَسَبَّتْهَا فَغَلَبَتْهَا ، فَانْطَلَقَتْ زَيْنَبُ إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَقَالَتْ : إِنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَقَعَتْ بِكُمْ وَفَعَلَتْ فَجَاءَتْ فَاطِمَةُ ، فَقَالَ لَهَا : إِنَّهَا حِبَّةُ أَبِيكِ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ فَانْصَرَفَتْ ، فَقَالَتْ لَهُمْ : أَنِّي قُلْتُ لَهُ كَذَا وَكَذَا ، فَقَالَ لِي : كَذَا وَكَذَا ، قَالَ : وَجَاءَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَلَّمَهُ فِي ذَلِكَ .
´ابن عون کہتے ہیں` آیت کریمہ «ولمن انتصر بعد ظلمه فأولئك ما عليهم من سبيل» ” اور جو لوگ اپنے مظلوم ہونے کے بعد ( برابر کا ) بدلہ لے لیں تو ایسے لوگوں پر الزام کا کوئی راستہ نہیں “ ( سورۃ الشوریٰ : ۴۱ ) میں بدلہ لینے کا جو ذکر ہے اس کے متعلق میں پوچھ رہا تھا تو مجھ سے علی بن زید بن جدعان نے بیان کیا ، وہ اپنی سوتیلی ماں ام محمد سے روایت کر رہے تھے ، ( ابن عون کہتے ہیں : لوگ کہتے ہیں کہ وہ ( ام محمد ) ام المؤمنین ۱؎ کے پاس جایا کرتی تھیں ) ام محمد کہتی ہیں : ام المؤمنین نے کہا : میرے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے ، ہمارے پاس زینب بنت حجش رضی اللہ عنہا تھیں آپ اپنے ہاتھ سے مجھے کچھ چھیڑنے لگے ( جیسے میاں بیوی میں ہوتا ہے ) تو میں نے ہاتھ کے اشارہ سے آپ کو بتا دیا کہ زینب بنت حجش بیٹھی ہوئی ہیں ، تو آپ رک گئے اتنے میں زینب آ کر ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے الجھ گئیں اور انہیں برا بھلا کہنے لگیں ، تو آپ نے انہیں اس سے منع فرمایا لیکن وہ نہ مانیں ، تو آپ نے ام المؤمنین عائشہ سے فرمایا : ” تم بھی انہیں کہو “ ، تو انہوں نے بھی کہا اور وہ ان پر غالب آ گئیں ، تو ام المؤمنین زینب رضی اللہ عنہا ، علی رضی اللہ عنہ کے پاس گئیں ، اور ان سے کہا کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے تمہیں یعنی بنو ہاشم کو گالیاں دیں ہیں ( کیونکہ ام زینب ہاشمیہ تھیں ) پھر فاطمہ رضی اللہ عنہا ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی شکایت کرنے ) آئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : قسم ہے کعبہ کے رب کی وہ ( یعنی عائشہ ) تمہارے والد کی چہیتی ہیں تو وہ لوٹ گئیں اور بنو ہاشم کے لوگوں سے جا کر انہوں نے کہا : میں نے آپ سے ایسا اور ایسا کہا تو آپ نے مجھے ایسا اور ایسا فرمایا ، اور علی رضی اللہ عنہ بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ سے اس سلسلے میں گفتگو کی ۔