حدیث نمبر: 4891
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ نَشِيطٍ ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عَلْقَمَةَ ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ رَأَى عَوْرَةً فَسَتَرَهَا كَانَ كَمَنْ أَحْيَا مَوْءُودَةً " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو کسی کا کوئی عیب دیکھے پھر اس کی پردہ پوشی کرے تو وہ اس شخص کی طرح ہے جس نے کسی زندہ دفنائی گئی لڑکی کو نئی زندگی بخشی ہو “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأدب / حدیث: 4891
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: حسن, مشكوة المصابيح (4984), أبو الھيثم: وثقه ابن حبان وصحح له الحاكم والذهبي
تخریج حدیث « تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 9950)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/147) (ضعیف) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´مسلمان کے عیب کو چھپانا بہتر ہے۔`
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کسی کا کوئی عیب دیکھے پھر اس کی پردہ پوشی کرے تو وہ اس شخص کی طرح ہے جس نے کسی زندہ دفنائی گئی لڑکی کو نئی زندگی بخشی ہو۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4891]
فوائد ومسائل:
مسلمان جس سے کبھی کوئی غلطی ہو گئی ہوتو اس کے راز کو فاش کرنا کسی طرح نیکی نہیں، نصیحت ضرور کرنی چاہیئے۔
ہاں اگر کوئی عادی مجرم اور فاسق فاجر ہو تو اس کی پردہ پوشی مناسب نہیں، کیونکہ اس سے اس کے فسق و فجور میں اور اضافہ ہو جائے گا۔
اس لئے اس کی شکائت حاکم اور قاضی تک ضرور پہنچنی چاہیئےتا کہ اس کی اصلاح ہو۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4891 سے ماخوذ ہے۔