حدیث نمبر: 4889
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الْحَضْرَمِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ ، حَدَّثَنَا ضَمْضَمُ بْنُ زُرْعَةَ ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ , وَكَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ , وَعَمْرِو بْنِ الْأَسْوَدِ , وَالْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ , وأبي أمامة ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ الْأَمِيرَ إِذَا ابْتَغَى الرِّيبَةَ فِي النَّاسِ أَفْسَدَهُمْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´جبیر بن نفیر ، کثیر بن مرہ ، عمرو بن اسود ، مقدام بن معد یکرب اور ابوامامہ رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” حاکم جب لوگوں کے معاملات میں بدگمانی اور تہمت پر عمل کرے گا تو انہیں بگاڑ دے گا “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأدب / حدیث: 4889
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح لغيره , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, مشكوة المصابيح (3708)
تخریج حدیث « تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 4886،18472، 19158، 19236)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/4) (صحیح لغیرہ) » (اوپر کی حدیث سے تقویت پا کر یہ صحیح ہے)

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´تجسس کرنا اور ٹوہ لگانا منع ہے۔`
جبیر بن نفیر، کثیر بن مرہ، عمرو بن اسود، مقدام بن معد یکرب اور ابوامامہ رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حاکم جب لوگوں کے معاملات میں بدگمانی اور تہمت پر عمل کرے گا تو انہیں بگاڑ دے گا۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4889]
فوائد ومسائل:
حاکمِ وقت کو عفو و درگزر سے کام لینا چاہیئے اور خوردہ گیری سے اجتناب کرنا چاہیئے۔
البتہ حدود کے نفاذ میں اسے کسی قسم کی رو رعائت نہیں کرنی چاہیئے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4889 سے ماخوذ ہے۔