حدیث نمبر: 4888
حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّمْلِيُّ , وَابْنُ عَوْفٍ , وَهَذَا لَفْظُهُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا الْفِرْيَابِيُّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ ثَوْرٍ ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّكَ إِنِ اتَّبَعْتَ عَوْرَاتِ النَّاسِ أَفْسَدْتَهُمْ أَوْ كِدْتَ أَنْ تُفْسِدَهُمْ " , فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ كَلِمَةٌ سَمِعَهَا مُعَاوِيَةُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ نَفَعَهُ اللَّهُ تَعَالَى بِهَا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´معاویہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : اگر تم لوگوں کی پوشیدہ باتوں کے پیچھے پڑو گے ، تو تم ان میں بگاڑ پیدا کر دو گے ، یا قریب ہے کہ ان میں اور بگاڑ پیدا کر دو ۱؎ ۔ ابو الدرداء کہتے ہیں : یہ وہ کلمہ ہے جسے معاویہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے اور اللہ نے انہیں اس سے فائدہ پہنچایا ہے ۔

وضاحت:
۱؎: کیونکہ راز فاش ہو جانے کی صورت میں ان کی جھجھک ختم ہو جائے گی، اور وہ کھلم کھلا گناہ کرنے لگیں گے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأدب / حدیث: 4888
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح, مشكوة المصابيح (3709), وله شاھد عند البخاري في الأدب المفرد (248 وسنده حسن)
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 11413) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´تجسس کرنا اور ٹوہ لگانا منع ہے۔`
معاویہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: اگر تم لوگوں کی پوشیدہ باتوں کے پیچھے پڑو گے، تو تم ان میں بگاڑ پیدا کر دو گے، یا قریب ہے کہ ان میں اور بگاڑ پیدا کر دو ۱؎۔ ابو الدرداء کہتے ہیں: یہ وہ کلمہ ہے جسے معاویہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے اور اللہ نے انہیں اس سے فائدہ پہنچایا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4888]
فوائد ومسائل:
1) عین ممکن ہے کہ لوگ عیب کھل جانے کی وجہ سے مزید جری ہو جائیں اور علی الا علان غلط کام کرنے لگیں۔
تاہم امام ِ عادل نصیحت اور اصلاح ِ احوال کے لیئے ان کی خبریں معلوم کرے تو جائز ہو گا۔

2) جس طرح سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو اس فرمانِ نبوی سے فائدہ ہوا کہ وہ ایک کامیاب امیر رہے اس طرح امت کے سب افراد ان کی اتبا ع کر کے فائدہ حاصل کر سکتے ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4888 سے ماخوذ ہے۔