حدیث نمبر: 4884
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ الصَّبَّاحِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ إِسْمَاعِيل بْنَ بَشِيرٍ ، يَقُولُ :سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ وَأَبَا طَلْحَةَ بْنَ سَهْلٍ الْأَنْصَارِيَّ ، يَقُولَانِ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنَ امْرِئٍ يَخْذُلُ امْرَأً مُسْلِمًا فِي مَوْضِعٍ تُنْتَهَكُ فِيهِ حُرْمَتُهُ وَيُنْتَقَصُ فِيهِ مِنْ عِرْضِهِ إِلَّا خَذَلَهُ اللَّهُ فِي مَوْطِنٍ يُحِبُّ فِيهِ نُصْرَتَهُ ، وَمَا مِنَ امْرِئٍ يَنْصُرُ مُسْلِمًا فِي مَوْضِعٍ يُنْتَقَصُ فِيهِ مِنْ عِرْضِهِ وَيُنْتَهَكُ فِيهِ مِنْ حُرْمَتِهِ إِلَّا نَصَرَهُ اللَّهُ فِي مَوْطِنٍ يُحِبُّ نُصْرَتَهُ " قَالَ يَحْيَى : وَحَدَّثَنِيهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ , وَعُقْبَةُ بْنُ شَدَّادٍ ، قَالَ أَبُو دَاوُد :يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ هَذَا هُوَ ابْنُ زَيْدٍ مَوْلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِسْمَاعِيل بْنُ بَشِيرٍ مَوْلَى بَنِي مَغَالَةَ ، وَقَدْ قِيلَ عُتْبَةُ بْنُ شَدَّادٍ مَوْضِعَ عُقْبَةَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´جابربن عبداللہ اور ابوطلحہ بن سہل انصاری رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو کسی مسلمان شخص کو کسی ایسی جگہ میں ذلیل کرے گا ، جہاں اس کی بے عزتی کی جائے اس کی عزت میں کمی آئے تو اللہ اسے ایسی جگہ ذلیل کرے گا ، جہاں وہ اس کی مدد چاہے گا ، اور جو کسی مسلمان کی ایسی جگہ میں مدد کرے گا جہاں اس کی عزت میں کمی آ رہی ہو اور اس کی آبرو جا رہی ہو تو اللہ اس کی ایسی جگہ پر مدد کرے گا ، جہاں پر اس کو اللہ کی مدد محبوب ہو گی “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأدب / حدیث: 4884
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, إسماعيل بن بشير وتلميذه يحيي بن سليم مجهولان (تقريب التهذيب: 427،7562), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 170
تخریج حدیث « تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 2214، 3769، 19101، 18992)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/30) (ضعیف) » ( آخری ٹکڑا فقال رسول+اللہ+صلی+اللہ+علیہ+وسلم سے آخر تک ضعیف ہے ، بقیہ حدیث صحیح ہے ، ابوہریرہ رضی+اللہ+عنہ کی اس معنی کی ( 380 ) نمبر کی حدیث گزر چکی ہے ) ۔

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´جس شخص نے اپنے مسلمان بھائی کی طرف سے غیبت کا جواب دیا اس کے حکم کا بیان۔`
جابربن عبداللہ اور ابوطلحہ بن سہل انصاری رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کسی مسلمان شخص کو کسی ایسی جگہ میں ذلیل کرے گا، جہاں اس کی بے عزتی کی جائے اس کی عزت میں کمی آئے تو اللہ اسے ایسی جگہ ذلیل کرے گا، جہاں وہ اس کی مدد چاہے گا، اور جو کسی مسلمان کی ایسی جگہ میں مدد کرے گا جہاں اس کی عزت میں کمی آ رہی ہو اور اس کی آبرو جا رہی ہو تو اللہ اس کی ایسی جگہ پر مدد کرے گا، جہاں پر اس کو اللہ کی مدد محبوب ہو گی۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4884]
فوائد ومسائل:
یہ روایت سندََا ضعیف ہے، تاہم صحیح حدیث میں ہے: جب تک بندہ اپنے بھائی کی نصرت اور مدد میں رہے، اللہ اپنے بندے کی مدد میں رہتا ہے۔
(صحیح المسلم، الذکر و الدعاء، حدیث: 2699) 
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4884 سے ماخوذ ہے۔