حدیث نمبر: 4883
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ بْنِ عُبَيْدٍ , حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُلَيْمَانَ ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ يَحْيَى الْمُعَافِرِيِّ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ الْجُهَنِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ حَمَى مُؤْمِنًا مِنْ مُنَافِقٍ أُرَاهُ ، قَالَ : بَعَثَ اللَّهُ مَلَكًا يَحْمِي لَحْمَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ نَارِ جَهَنَّمَ ، وَمَنْ رَمَى مُسْلِمًا بِشَيْءٍ يُرِيدُ شَيْنَهُ بِهِ حَبَسَهُ اللَّهُ عَلَى جِسْرِ جَهَنَّمَ حَتَّى يَخْرُجَ مِمَّا قَالَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´معاذ بن انس جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو کسی مومن کی عزت و آبرو کی کسی منافق سے حفاظت کرے گا تو اللہ ایک فرشتہ بھیجے گا جو قیامت کے دن اس کے گوشت کو جہنم کی آگ سے بچائے گا “ اور جو شخص کسی مسلمان پر تہمت لگائے گا ، اس سے اس کا مقصد اسے مطعون کرنا ہو تو اللہ اسے جہنم کے پل پر روکے رکھے گا یہاں تک کہ جو اس نے جو کچھ کہا ہے اس سے نکل جائے ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأدب / حدیث: 4883
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, إسماعيل بن يحيي المعافري : مجهول (تقريب التهذيب: 495) لم يوثقه غير ابن حبان, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 170
تخریج حدیث « تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 11291)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/441) (حسن) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´جس شخص نے اپنے مسلمان بھائی کی طرف سے غیبت کا جواب دیا اس کے حکم کا بیان۔`
معاذ بن انس جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کسی مومن کی عزت و آبرو کی کسی منافق سے حفاظت کرے گا تو اللہ ایک فرشتہ بھیجے گا جو قیامت کے دن اس کے گوشت کو جہنم کی آگ سے بچائے گا اور جو شخص کسی مسلمان پر تہمت لگائے گا، اس سے اس کا مقصد اسے مطعون کرنا ہو تو اللہ اسے جہنم کے پل پر روکے رکھے گا یہاں تک کہ جو اس نے جو کچھ کہا ہے اس سے نکل جائے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4883]
فوائد ومسائل:
مسلمان صاحبِ ایمان کی عزت کا دفاع کرنا، اس کے سامنے ہو یا اس کی غیر موجودگی میں بہت بڑی وعزیمت اور فضیلت کا کام ہے، اس سے ایک صالح معاشرہ تشکیل پاتا ہے اور شریر طبیعت افراد کو پنپنے کا مو قع نہیں ملتا۔
یہ روایت بعض محقیقین کے نزدیک حسن درجے کی ہے۔
تفصیل کے لیئے دیکھئے: (التعلیق الرغیب: 302/3، 303 و مشکوة، التحقیق الثاني للألباني، حدیث: 4986)
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4883 سے ماخوذ ہے۔