حدیث نمبر: 4882
حَدَّثَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ حَرَامٌ مَالُهُ وَعِرْضُهُ وَدَمُهُ حَسْبُ امْرِئٍ مِنْ الشَّرِّ أَنْ يَحْقِرَ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مسلمان کی ہر چیز اس کا مال ، اس کی عزت اور اس کا خون دوسرے مسلمان پر حرام ہے ، اور آدمی میں اتنی سی برائی ہونا ہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´غیبت کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” مسلمان کی ہر چیز اس کا مال، اس کی عزت اور اس کا خون دوسرے مسلمان پر حرام ہے، اور آدمی میں اتنی سی برائی ہونا ہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4882]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” مسلمان کی ہر چیز اس کا مال، اس کی عزت اور اس کا خون دوسرے مسلمان پر حرام ہے، اور آدمی میں اتنی سی برائی ہونا ہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4882]
فوائد ومسائل:
جہاں مسلمان بھائی کی دوسروں کے ہاں بدگوئی کرنا یا توہین کرنا یا اس کا مال مار لینا حرام ہے، وہاں اپنے جی میں اسے حقیر جاننا بھی بہت بڑا گناہ ہے۔
جہاں مسلمان بھائی کی دوسروں کے ہاں بدگوئی کرنا یا توہین کرنا یا اس کا مال مار لینا حرام ہے، وہاں اپنے جی میں اسے حقیر جاننا بھی بہت بڑا گناہ ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4882 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 3933 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´مومن کی جان و مال کی حرمت کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ہر مسلمان کا خون، مال اور عزت و آبرو دوسرے مسلمان پر حرام ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3933]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ہر مسلمان کا خون، مال اور عزت و آبرو دوسرے مسلمان پر حرام ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3933]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
کسی کو ذلیل کرنا، اس کی غیبت کرنا، اس پر کسی قسم کا جھوٹا الزام لگانا اور اس کی غلطیوں کی تشہیر کرنا سب کبیرہ گناہ ہیں۔
فوائد و مسائل:
کسی کو ذلیل کرنا، اس کی غیبت کرنا، اس پر کسی قسم کا جھوٹا الزام لگانا اور اس کی غلطیوں کی تشہیر کرنا سب کبیرہ گناہ ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3933 سے ماخوذ ہے۔