حدیث نمبر: 4878
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُصَفَّى ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ , وَأَبُو الْمُغِيرَةِ , قَالَا : حَدَّثَنَا صَفْوَانُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي رَاشِدُ بْنُ سَعْدٍ , وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرٍ , عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَمَّا عُرِجَ بِي مَرَرْتُ بِقَوْمٍ لَهُمْ أَظْفَارٌ مِنْ نُحَاسٍ يَخْمُشُونَ وُجُوهَهُمْ وَصُدُورَهُمْ فَقُلْتُ : مَنْ هَؤُلَاءِ يَا جِبْرِيلُ ؟ قَالَ : هَؤُلَاءِ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ لُحُومَ النَّاسِ وَيَقَعُونَ فِي أَعْرَاضِهِمْ " , قَالَ أَبُو دَاوُد : حَدَّثَنَاه يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ ، عَنْ بَقِيَّةَ لَيْسَ فِيهِ أَنَسٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب مجھے معراج کرائی گئی ، تو میرا گزر ایسے لوگوں پر سے ہوا ، جن کے ناخن تانبے کے تھے اور وہ ان سے اپنے منہ اور سینے نوچ رہے تھے ، میں نے پوچھا : جبرائیل ! یہ کون لوگ ہیں ؟ کہا : یہ وہ ہیں جو لوگوں کا گوشت کھاتے ( غیبت کرتے ) اور ان کی بے عزتی کرتے تھے “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ہم سے اسے یحییٰ بن عثمان نے بیان کیا ہے اور بقیہ سے روایت کر رہے تھے ، اس میں انس موجود نہیں ہیں ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأدب / حدیث: 4878
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح, مشكوة المصابيح (5046)
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 828)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/224) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´غیبت کا بیان۔`
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب مجھے معراج کرائی گئی، تو میرا گزر ایسے لوگوں پر سے ہوا، جن کے ناخن تانبے کے تھے اور وہ ان سے اپنے منہ اور سینے نوچ رہے تھے، میں نے پوچھا: جبرائیل! یہ کون لوگ ہیں؟ کہا: یہ وہ ہیں جو لوگوں کا گوشت کھاتے (غیبت کرتے) اور ان کی بے عزتی کرتے تھے۔‏‏‏‏ ابوداؤد کہتے ہیں: ہم سے اسے یحییٰ بن عثمان نے بیان کیا ہے اور بقیہ سے روایت کر رہے تھے، اس میں انس موجود نہیں ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4878]
فوائد ومسائل:
مسلمان کی غیبت کرنا یا چھوٹی سطح کے مسلمانوں کی عزت و توقیر کو ملحوظ نہ رکھنا سخت خطرناک ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4878 سے ماخوذ ہے۔