حدیث نمبر: 4877
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ مِنْ أَكْبَرِ الْكَبَائِرِ اسْتِطَالَةَ الْمَرْءِ فِي عِرْضِ رَجُلٍ مُسْلِمٍ بِغَيْرِ حَقٍّ وَمِنَ الْكَبَائِرِ السَّبَّتَانِ بِالسَّبَّةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بڑے گناہوں میں سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ آدمی ناحق کسی مسلمان کی بے عزتی میں زبان دراز کرے ، اور یہ بھی کبیرہ گناہوں میں سے ہے کہ ایک گالی کے بدلے دو گالیاں دی جائیں “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأدب / حدیث: 4877
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, عمرو بن أبي سلمة : شامي وقال الحافظ ابن حجر في ترجمة زھير بن محمد التميمي : ’’ رواية أھل الشام عنه غير مستقيمة ‘‘ إلخ (تقريب التهذيب: 2049), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 169
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 14020) (ضعیف) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´غیبت کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بڑے گناہوں میں سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ آدمی ناحق کسی مسلمان کی بے عزتی میں زبان دراز کرے، اور یہ بھی کبیرہ گناہوں میں سے ہے کہ ایک گالی کے بدلے دو گالیاں دی جائیں۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4877]
فوائد ومسائل:
یہ روایت ضعیف ہے۔
تاہم یہ افعال بااعتبارِ شریعیت اور اخلاق ہر طرح سے مذموم ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4877 سے ماخوذ ہے۔