حدیث نمبر: 4873
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ الرُّكَيْنِ بْنِ الرَّبِيعِ ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ حَنْظَلَةَ ، عَنْ عَمَّارٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ كَانَ لَهُ وَجْهَانِ فِي الدُّنْيَا كَانَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لِسَانَانِ مِنْ نَارٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عمار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس شخص کے دنیا میں دو رخ ہوں گے قیامت کے دن اس کے لیے آگ کی دو زبانیں ہوں گی “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأدب / حدیث: 4873
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, مشكوة المصابيح (4846), شريك القاضي صرح بالسماع عند ابن أبي الدنيا في كتاب الصمت (274)
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 10369)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الرقاق 51 (2806) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´دو رخے شخص کا بیان۔`
عمار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کے دنیا میں دو رخ ہوں گے قیامت کے دن اس کے لیے آگ کی دو زبانیں ہوں گی۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4873]
فوائد ومسائل:
ایسے لوگ اپنی سمجھ میں بڑے دانا بننے کی کوشش کرتے ہیں اور اپنے آپ کو مصلحت کیش باور کراتے ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ انتہائی بزدل اور پستی میں گرے ہوئے ہوتے ہیں۔
ان کو ابن الوقت اور منافق کہتے ہیں، قرآن مجید کی ابتدا میں کفار کی مذمت میں صرف دو آئتیں(البقرہ6،7) ہیں، مگر مصلحت کیش منافقین کی مذمت میں تیرہ آیتئں مذکور ہیں۔
دیکھئے (البقرہ: از آیت نمبر 8 تا 20)
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4873 سے ماخوذ ہے۔