سنن ابي داود
كتاب الأدب— کتاب: آداب و اخلاق کا بیان
باب فِي نَقْلِ الْحَدِيثِ باب: راز کی باتوں کو افشاء کرنے کی ممانعت۔
حدیث نمبر: 4870
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ , وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ , قَالَا : أَخْبَرَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ عُمَرَ ، قَالَ : إِبْرَاهِيمُ هُوَ : عُمَرُ بْنُ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْعُمَرِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ , يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ أَعْظَمَ الْأَمَانَةِ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الرَّجُلُ يُفْضِي إِلَى امْرَأَتِهِ وَتُفْضِي إِلَيْهِ ثُمَّ يَنْشُرُ سِرَّهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قیامت کے دن اللہ کے نزدیک سب سے بڑی امانت یہ ہے کہ مرد اپنی بیوی سے خلوت میں ملے اور وہ ( بیوی ) اس سے ملے پھر وہ ( مرد ) اس کا راز فاش کرے “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´راز کی باتوں کو افشاء کرنے کی ممانعت۔`
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " قیامت کے دن اللہ کے نزدیک سب سے بڑی امانت یہ ہے کہ مرد اپنی بیوی سے خلوت میں ملے اور وہ (بیوی) اس سے ملے پھر وہ (مرد) اس کا راز فاش کرے۔" [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4870]
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " قیامت کے دن اللہ کے نزدیک سب سے بڑی امانت یہ ہے کہ مرد اپنی بیوی سے خلوت میں ملے اور وہ (بیوی) اس سے ملے پھر وہ (مرد) اس کا راز فاش کرے۔" [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4870]
فوائد ومسائل:
اللہ عزوجل نے میاں بیوی کو ایک دوسرے کا لباس بنایا ہے تو ان کا آپس کے رازوں کو دوسروں کے سامنے افشاہ کر دینا بہت قبیح عمل ہے۔
سوائے اس کے کہ کسی شرعی ضرورت کے تحت قاضی وغیرہ کے سامنے کوئی بات کہنی پڑے۔
اللہ عزوجل نے میاں بیوی کو ایک دوسرے کا لباس بنایا ہے تو ان کا آپس کے رازوں کو دوسروں کے سامنے افشاہ کر دینا بہت قبیح عمل ہے۔
سوائے اس کے کہ کسی شرعی ضرورت کے تحت قاضی وغیرہ کے سامنے کوئی بات کہنی پڑے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4870 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 1437 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اللہ کے ہاں قیامت کے دن وہ انسان سب سے بڑا امانت میں خیانت کرنے والا ہو گا جو اپنی بیوی کے پاس جاتا ہے اور وہ اپنے آپ کو اس کے حوالہ کر دیتی ہے۔ پھر وہ اس کے راز کو ظاہر کر دیتا ہے۔‘‘ ابن نمیر کی روایت میں، اَعظَمَ [صحيح مسلم، حديث نمبر:3543]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: میاں بیوی ایک دوسرے سے ہم بستری لوگوں سے چھپ کر کرتے ہیں، جو اس بات کی علامت ہے کہ یہ ایک پوشیدہ کام ہے، جس کا اظہار درست نہیں ہے۔
اس لیے اگر میاں بیوی اس حرکت و عمل کا نقشہ دوسروں کے سامنے کھینچتے ہیں تو یہ امانت میں خیانت اور مخفی راز کا افشاء کرنا ہے جو انتہائی قبیح حرکت اور قابل مواخذہ عمل ہے۔
اس لیے اگر میاں بیوی اس حرکت و عمل کا نقشہ دوسروں کے سامنے کھینچتے ہیں تو یہ امانت میں خیانت اور مخفی راز کا افشاء کرنا ہے جو انتہائی قبیح حرکت اور قابل مواخذہ عمل ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 3543 سے ماخوذ ہے۔